مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 75

سو بشیر کی موت مومنوں کو برکت دینے کے لئے ان طریقوں میں سے ایک عمدہ طریقہ ہے۔گو کوئی شخص اس عاجز پر اعتقاد رکھے یا نہ رکھے اور اس ضعیف کو ملہم سمجھے یا نہ سمجھے مگر بشیر کی موت سے اگر محض للہ اس کو غم پہنچا ہے تو بلاشبہ بشیر اس کے لئے فرط اور شفیع ہوگا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ۲۰ ؍فروری ۱۸۸۶ء کو اشتہار میں کہ جو بظاہر ایک لڑکے کی بابت پیشگوئی سمجھی گئی تھی۔وہ درحقیقت دو لڑکوں کی بابت پیشگوئی تھی۔یعنی اشتہار مذکور کی پہلی یہ عبارت (کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کانام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔وہ رجس سے (یعنی گناہ سے )پاک ہے۔وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے) یہ تمام عبارت اسی پسر متوفی کے حق میں ہے۔اور مہمان کا وہ لفظ جو اس کے حق میں استعمال کیا گیا ہے یہ اس کی چند روزہ زندگی کی طر ف اشارہ ہے کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہوجاوے۔اور بعد کاوہ فقرہ مصلح موعود کی طرف اشارہ ہے اور اخیر تک اس کی تعریف ہے۔چنانچہ آپ کو اور اجمالاً سب کو معلوم ہے کہ بشیر کی موت سے پہلے ۱۰ ؍جولائی۱۸۸۸ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی شائع ہو چکی ہے کہ ایک اور لڑکا پید اہونے والا ہے جو اولوالعزم ہو گا اور ۸؍ اپریل ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں وہ فقرہ الہامی کہ ’’انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں‘‘۔اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بشیر کی موت سے پہلے جب آپ قادیان میں ملاقات کے لئے تشریف لائے تو زبانی بھی اس آنے والے لڑکے کے بارہ میں آپ کو الہام سنا دیا گیاتھا۔یعنی یہ کہ ایک اولوالعزم پیدا ہوگا۔یَخْلُقُ مَایَشَآئُ۔وہ حسن اور احسان میں تیر انظیر ہوگا۔سو اس الہام الٰہی نے پہلے سے ظاہر کردیا کہ لڑکا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ہاں کسی مدت تک یہی اجتہادی غلطی رہی کہ لڑکا ایک ہی سمجھا گیا۔۲۰ ؍ فروری ۱۸۸۶ء (کی) پیشگوئی جو لڑکے کی بابت تھی۔وہ درحقیقت دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی۔جوغلطی سے ایک سمجھی گئی اور پھر بعد میں بشیر کی موت سے پہلے خود الہام نے اس غلطی کو رفع کر دیا۔اگر الہام اس غلطی کو بشیر کی موت سے پہلے رفع نہ کرتا تو ایک غبی کو شبہات پیدا ہونے ممکن تھے مگر اب کوئی گنجائش شبہ کی نہیں۔حضرت مسیح نے اجتہادی طور پر بعض اپنی پیشگوئیوںکو ایسے طور سے سمجھ لیا تھاکہ اس طور سے وقوع میں نہیں آئیں اور حضرات حواریان بھی جو عیسائیوں کے نزدیک نبی کہلاتے ہیں، کئی دفعہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میںغلطی