مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 77
اور ۱؎ کہہ کر ان کو رخصت کرتے ہیں۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ سچا رجوع اور سچا یقین بجز سچی معرفت کے، کہ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، بالکل غیر ممکن ہے اور یہ کام مجرد عقلی دلائل سے ہرگز نہیں ہوسکے گا۔وہ اتم اور اکمل مرتبہ معرفت جو مدارِ نجات ہے فقط عقلی دلائل سے ہر گز نہیں ہوسکتا بلکہ فقط عقلی طور پر اپنے خصم کو ساکت کرنا ایک ناقص اور ناتمام فتح ہے۔ہمیشہ حقیقی فائدہ خلق اللہ کے ایمان کو اکابر کی برکات روحانیہ سے ہوتا رہا ہے۔اور اگر کبھی ان کی کوئی پیشگوئی کسی کے ٹھوکر کھا نے کا موجب ہوئی بھی، تو دراصل خود اسی کا قصور تھا جس نے بوجہ قلت معرفت عادات الٰہیہ ٹھوکر کھائی۔یہ بات ہر ایک وسیع المعلومات شخص پر ظاہر ہے کہ اپنے مکاشفات کے متعلق اکثر نبیوں سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کے شاگردوں سے بھی۔جیسا کہ حضرت ابوبکر نے بضع کے لفظ کو جو آیت ۲؎ میں داخل ہے۔تین برس میں محدود سمجھ لیا تھا اور یہ غلطی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو متنبہ کیا اور اسرائیلی نبیوں کی اجتہادی غلطیاں ۳؎ تو خود ظاہر ہیں جن سے عیسائی بھی انکار نہیں کر سکتے۔پس کیا بمجرد ظہور کسی اجتہادی غلطی کے ان پاک نبیوں کے وفادار اور روشن ضمیر پیرو انہیں یہ صلاح دے سکتے تھے کہ آپ اپنے وعظ اور پند کو صرف عقلی طریق تک محدود رکھیں اور دعوٰے نبوت اور پیشگوئیوں کے بیان کرنے سے دستکش ہو جائیںکہ یہ حق کے طالبوں کیلئے فائد ہ مند چیز ۱؎ الکافرون: ۷ ۲؎ الروم: ۴،۵ ۳؎ بنی اسرائیل کے چارسَو نبی نے ایک بادشاہ کی فتح کی نسبت خبر دی، اور وہ غلط نکلی یعنی بجائے فتح کے شکست ہوئی، دیکھو سلاطین اوّل باب ۲۲ آیت ۱۹۔مگر اس عاجز کی پیشگوئی میں کوئی الہامی غلطی نہیں، الہام نے پیش از وقوع لڑکا پیدا ہونا ظاہر کیا کہ جو انسان کے اختیار سے باہر تھا۔سو لڑکا پیدا ہو گیا اور الہام نے اس لڑکے کی ذاتی فضیلتیں تو بیان کیں مگر کہیں نہیں بتلایا کہ وہ ضرور بڑی عمر پائے گا بلکہ یہ بھی بتلایا کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت ہونگے۔دیکھو اشتہار ۲۰فروری ۱۸۸۶ء۔ہاں الہام نے پیش از وفات بشیر یہ بھی کھول دیا کہ ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود ہے۔دیکھو اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء۔سو اگر ابتداء میں دو لڑکوں کو ایک لڑکا سمجھا گیا تو حقیقت میں یہ کچھ غلطی نہیں کیونکہ اس غلطی کو پہلے لڑکے کی موجودگی میں ہی الہام نے رفع کر دیا۔منہ