مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 649 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 649

مکتوبات احمد ۶۴۹ جلد دوم عبدالکریم صاحب جوایک عجیب مخلص انسان تھے اور ایسا ہی اب مولوی برہان الدین صاحب جہلم میں فوت ہو گئے اور بھی : فوت ہو گئے اور بھی بہت سے مولوی صاحبان ا احبان اس جماعت میں سے سے فوت ہو گئے ۔ مگر افسوس ہے کہ جو مرتے ہیں ان کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا ۔ پھر فرمایا :۔ مجھے مدرسہ کی طرف دیکھ کر بھی رنج ہی پہنچتا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ بات اس سے حاصل نہیں ہوئی ۔ اگر یہاں سے بھی طالب علم نکل کر دنیا کے طالب ہی بننے تھے تو ہمیں اس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ ہم تو چاہتے تھے کہ دین کے لئے خادم پیدا ہوں ۔ چنانچہ پھر بہت سے احباب کو بلا کر ان کے سامنے یہ امر پیش کیا کہ مدرسہ میں ایسی اصلاح ہونی چاہئے کہ یہاں سے واعظ اور مولوی پیدا ہوں جو آئیندہ ان لوگوں کے قائم مقام ہوتے رہیں جو گزرتے چلے جاتے ہیں ۔ کیسا افسوس کا مقام ہے کہ آریہ سماج میں وہ لوگ پیدا ہوں جو ایک باطل کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر ہماری قوم سچے خدا کو پا کر پھر دنیا کی طرف جھک رہی ہے اور دین کے لئے زندگی وقف کرنا محال ہو رہا ہے۔ فرمایا: سب سوچو کہ اس مدرسہ کو ایسے رنگ میں رکھا جاوے کہ یہاں سے قرآن دان واعظ مولوی لوگ پیدا ہوں ۔ جو دنیا کی ہدایت کا ذریعہ ہوں ۔ ۶ استمبر ۱۹۰۵ء والسلام خاکسار محمد علی یہ مکتوب اگر چه براه راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ کا لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ مکرمی مولوی محمد علی صاحب ( جو خلافت ثانیہ کے ساتھ ہی قادیان سے انکار خلافت کر کے خروج کر چکے ہیں اور لاہور جا بسے ہیں ۔ عرفانی ) نے حضرت اقدس کے حکم سے لکھا ہے۔ خطوط کی سال وار ترتیب کے لحاظ سے بھی یہ خط یہاں نہیں آنا چاہئے تھا مگر اس کے لئے میں دوسری جگہ بھی نہیں نکال سکا۔ یہ خط بہت سے ضروری اور اہم مضامین پر مشتمل ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پاک خواہشوں اور مقاصد کا مظہر ہے ۔ تاریخ سلسلہ میں یہ ایک مفید اور دلچسپ ورق ہے۔ مناسب موقعہ پر میں اس سے ضروری امور پر روشنی ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ و باللہ التوفیق ۔ آمین ۔