مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 650
بذریعہ ریل بھیج دیں اور ریل کے کرایہ کو دیکھ لیں کہ زیادہ نہ ہو۔کیونکہ ایک مرتبہ دہلی سے ایک پالکی منگوائی گئی تھی اور غلطی سے خیال نہ کیا گیا۔آخر ریل والوںنے پچاس روپیہ اس کا کرایہ لیا۔باقی سب خیریت ہے۔طاعون سے اس طرف شور قیامت بپا ہے۔دن کو آدمی اچھا ہوتا ہے اور رات کو موت کی خبر آتی ہے۔والسلام ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۷۶ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ اس جگہ بُنائی کا کام مشکل ہے۔ہر طرف طاعون کی بیماری ہے۔کوئی آدمی ہاتھ نہیں آئے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ اگرچہ سات روپیہ تک کرایہ کی زیادتی ہو۔تو کچھ مضائقہ نہیں۔وہیں سے تیار ہوکر آنی چاہئیں۔لیکن اگر کرایہ زیادہ مثلاً بیس پچیس روپیہ ہو تو پھر صرف سامان پلنگوں کا بھیج دیا جاوے۔ایک پلنگ نواڑکا ہو اوردو عمدہ باریک سن کی سوتری کے۔غرض اس جگہ پلنگوں کے بننے کی بڑی دقت پیش آئے گی۔ایک طرف زراعت کاٹنے کے دن ہیں اور ایک طرف طاعون سے قیامت بر پا ہے۔لوگوں کو مُردے دفن کرنے کے لئے آدمی نہیں ملتے۔عجیب حیرانی میں لوگ گرفتار ہیں۔جہاں تک جلد ممکن ہو جلد تر روانہ فرماویں۔والسلام ۶؍ مئی ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ