مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 634
مکتوب نمبر ۲۶۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔میں بہت ضروری سمجھتا ہوںکہ اس مقدمہ کی نقل جومحمد حسین پر ہوا تھا ۲۷؍جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے جو تاریخ پیشی مقرر ہے۔مجھ کو پہنچ جاوے کیونکہ محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر نے محمد حسین کی صفائی کرتے ہوئے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ یہ بہت نیک چلن آدمی ہے۔کوئی مقدمہ اس کی طرف سے یا اس پر نہیں ہوا۔مگر اس جگہ سے آدمی آنا البتہ مشکل ہے۔اسی جگہ سے خواہ اخویم بابو محمد صاحب کے ذریعہ سے کسی کو مقرر کر کے درخواست دلا دینا چاہئے اور پھر جہاں تک ممکن ہو وہ درخواست جلد بذریعہ رجسٹری پہنچا دینی چاہئے۔محمد بخش نے نہایت ناپاک اور جھوٹا اظہار دیا ہے اور صاف لکھوا دیا ہے کہ یہ اور ان کی تمام جماعت بدچلن ہیں۔اوّل کسی کے مارنے کی پیشگوئی کر دیتے ہیں۔پھر پوشیدہ ناجائز کوششوں کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔اور میں قادیان میں اسی خیال سے دوسرے تیسرے روز ضرور جاتا ہوں۔اسی وجہ سے مجھے سب کچھ معلوم ہے اور ان کاچلن اچھا نہیں۔خراب اور خطرناک آدمی ہیں۔مگر محمد حسین نیک بخت اور اچھے چلن کا آدمی ہے۔کوئی بُری بات اس کی کبھی سنی نہیں گئی۔ایسے گندہ اظہار کی وجہ سے کل میں نے گواہوں کی طلبی اور خرچہ کے لئے چار سو روپیہ کے قریب روپیہ عدالت میں داخل کیا ہے، تین سو روپیہ میں نے دیا تھا اور ایک سو گورداسپور سے قرضہ لیا گیا اور وکیلوں کو جوکچھ ۲۷؍ جنوری کی پیشی میں دینا ہے۔وہ ابھی باقی ہے۔شاید پانچ سو روپیہ کے قریب دینا پڑے گا اوریقینا اس کے بعد ایک یا دو۲ پیشیاں ہوںگی۔تب مقدمہ فیصلہ پائے گا۔میںنے سنا ہے کہ پوشیدہ طور پر اس مقدمہ کے لئے ایک جماعت کوشش کر رہی ہے اور چندے بھی بہت ہو گئے ہیں۔آپ اگر ملاقات ہو تو اخویم بابومحمد صاحب کو لکھ دیں کہ میں نے انتظام کیا ہے کہ اس خطرناک مقدمہ میں جو تمام جماعت پر بد اثر ڈالتا ہے۔جماعت کے لوگوںسے چندہ لیا جاوے گا۔سو اس چندہ میں جہاں تک گنجائش ہو۔وہ بھی شریک ہوجائیں۔لیکن ۲۷؍ جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے اپنی لِلّٰہی مدد سے ثواب آخرت حاصل مکتوب نمبر ۲۶۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔میں بہت ضروری سمجھتا ہوںکہ اس مقدمہ کی نقل جومحمد حسین پر ہوا تھا ۲۷؍جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے جو تاریخ پیشی مقرر ہے۔مجھ کو پہنچ جاوے کیونکہ محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر نے محمد حسین کی صفائی کرتے ہوئے اپنے اظہار میں بیان کیا ہے کہ یہ بہت نیک چلن آدمی ہے۔کوئی مقدمہ اس کی طرف سے یا اس پر نہیں ہوا۔مگر اس جگہ سے آدمی آنا البتہ مشکل ہے۔اسی جگہ سے خواہ اخویم بابو محمد صاحب کے ذریعہ سے کسی کو مقرر کر کے درخواست دلا دینا چاہئے اور پھر جہاں تک ممکن ہو وہ درخواست جلد بذریعہ رجسٹری پہنچا دینی چاہئے۔محمد بخش نے نہایت ناپاک اور جھوٹا اظہار دیا ہے اور صاف لکھوا دیا ہے کہ یہ اور ان کی تمام جماعت بدچلن ہیں۔اوّل کسی کے مارنے کی پیشگوئی کر دیتے ہیں۔پھر پوشیدہ ناجائز کوششوں کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔اور میں قادیان میں اسی خیال سے دوسرے تیسرے روز ضرور جاتا ہوں۔اسی وجہ سے مجھے سب کچھ معلوم ہے اور ان کاچلن اچھا نہیں۔خراب اور خطرناک آدمی ہیں۔مگر محمد حسین نیک بخت اور اچھے چلن کا آدمی ہے۔کوئی بُری بات اس کی کبھی سنی نہیں گئی۔ایسے گندہ اظہار کی وجہ سے کل میں نے گواہوں کی طلبی اور خرچہ کے لئے چار سو روپیہ کے قریب روپیہ عدالت میں داخل کیا ہے، تین سو روپیہ میں نے دیا تھا اور ایک سو گورداسپور سے قرضہ لیا گیا اور وکیلوں کو جوکچھ ۲۷؍ جنوری کی پیشی میں دینا ہے۔وہ ابھی باقی ہے۔شاید پانچ سو روپیہ کے قریب دینا پڑے گا اوریقینا اس کے بعد ایک یا دو۲ پیشیاں ہوںگی۔تب مقدمہ فیصلہ پائے گا۔میںنے سنا ہے کہ پوشیدہ طور پر اس مقدمہ کے لئے ایک جماعت کوشش کر رہی ہے اور چندے بھی بہت ہو گئے ہیں۔آپ اگر ملاقات ہو تو اخویم بابومحمد صاحب کو لکھ دیں کہ میں نے انتظام کیا ہے کہ اس خطرناک مقدمہ میں جو تمام جماعت پر بد اثر ڈالتا ہے۔جماعت کے لوگوںسے چندہ لیا جاوے گا۔سو اس چندہ میں جہاں تک گنجائش ہو۔وہ بھی شریک ہوجائیں۔لیکن ۲۷؍ جنوری ۱۸۹۹ء سے پہلے اپنی لِلّٰہی مدد سے ثواب آخرت حاصل کریں اور