مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 633
مکتوب نمبر ۲۶۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج آنمکرم کا کارڈ پہنچا۔مجھے تعجب ہے کہ بیس روپیہ کی رسید کے بارے میں مَیں نے ایک کارڈ اپنے ہاتھ سے لکھاتھا۔معلوم ہو تا ہے کہ یا تو وہ کارڈ اسی سے گم ہو گیا جس کو ڈاک میں ڈالنے کے لئے دیا گیا تھا اور یا ڈاک میں گم ہو گیا۔خدا تعالیٰ نے دعا کا کچھ تو اثر ظاہر کیا کہ اس انگریز نے آپ کے گھوڑے کے بارے میں کچھ سوال نہیں کیا اورپھر اس کے فضل پر امید رکھنی چاہئے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۱۲؍ مئی ۱۸۹۸ء خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ۲۶۱ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا اور بعد پہنچنے خط کے جناب الٰہی میں آپ کے لئے دعا کی گئی اور انشاء اللہ رات کو دُعا کروںگا۔معلوم نہیں کہ سرکاری انتظام کے موافق اب آپ کتنے روز اور گورداسپور میں ٹھہریں گے۔باقی تا دم حال بفضلہ تعالیٰ سب خیریت ہے۔والسلام ۱۹؍ جنوری ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ:۔تاریخ ۱۹؍ جنوری ۱۸۹۸ء درج ہے۔جو غالباً ۱۸۹۹ء ہے۔(عرفانی)