مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 56
انہوں نے اپنے ذمہ مقدر کر رکھا تھا، جاتے وقت بھی پچیس روپے بھیجے اور ایک بڑا لمبا اور دردناک خط لکھا جس کے پڑھنے سے رونا آتا تھا اور حج سے آتے وقت راہ میں ہی بیمار ہوگئے اور گھر آتے ہی فوت ہوگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اس میں کچھ شک نہیں کہ منشی صاحب علاوہ اپنی ظاہری علمیت و خوش تقریری و وجاہت کے جو خدا دادا نہیں حاصل تھی۔مومن صادق اور صالح آدمی تھے جو دنیا میں کم پائے جاتے ہیں۔چونکہ وہ عالی خیال اور صوفی تھے اس لئے ان میں تعصب نہیں تھا۔میری نسبت وہ خوب جانتے تھے کہ یہ حنفی تقلید پر قائم نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ خیال انہیں محبت و اخلاص سے نہیں روکتا تھا۔غرض کچھ مختصر حال منشی احمد جان صاحب مرحوم کا یہ ہے اور لڑکی کا بھائی صاحبزادہ افتخار احمد صاحب بھی نوجوان صالح ہے جو اپنے والد مرحوم کے ساتھ حج بھی کر آئے ہیں۔اب دو باتیں تدبیر طلب ہیں۔اوّل یہ کہ انکی حنفیّت کے سوال کا کیا جواب دیا جائے۔دوسرے اگر اسی ربط پر رضا مندی فریقین کی ہو جائے تو لڑکی کے ظاہری حلیہ سے بھی کسی طور سے اطلاع ہو جانی چاہئے۔بہتر تو بچشم خود دیکھ لینا ہوتا ہے مگر آج کل کی پردہ داری میں یہ بڑی قباحت ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں ہوتے۔مجھ سے میر عباس علی صاحب نے اپنے سوالات مستفسرہ خط کا بہت جلد جواب طلب کیا ہے۔اس لئے مکلّف ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو جلد تر جواب ارسال فرماویں۔ابھی میں نے تصریح سے آپ کا نام ان پر ظاہر نہیں کیا۔جواب آنے پر ظاہر کروں گا۔ہندو پسر کے بارہ میں مجھے خیال ہے۔ابھی میں نے توجہ نہیں کی کیونکہ جس روز سے میں آیا ہوں میری طبیعت درست نہیں ہے۔علالت طبع کچھ نہ کچھ ساتھ چلی آتی ہے اور کثرت مشغولی علاوہ۔لیکن اگر میں نے کسی وقت توجہ کی اور آپ کی رائے کے موافق یا مخالف کچھ ظاہر ہوا جس کی مجھے ہنوز کچھ خبر نہیں۔تو بہرحال آپ پر اس کے موافق عمل کرنا واجب ہوگا۔ایک میرے دوست سامانہ علاقہ پیٹالہ میں ہیں۔جن کا نام مرزا محمد یوسف بیگ ہے انہوںنے کئی دفعہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے جس میں کچلہ مدبّر داخل ہوتا ہے۔وہ معجون میرے تجربہ میں آیا ہے کہ اعصاب کیلئے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ اور فالج اور تقویت دماغ اور قوتِ باہ کیلئے اور نیز