مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 55

مکتوب نمبر ۳۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہر دو عنایت نامے پہنچ گئے۔خدائے قادر ذوالجلال آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے ارادات خیر میں مدد دیوے۔اس عاجز نے آں مخدوم کے نکاح ثانی کی تجویز کیلئے کئی جگہ خط روانہ کئے تھے۔ایک جگہ سے جو جواب آیا ہے وہ کسی قدر حسبِ مراد معلوم ہوتا ہے یعنی میر عباس علی شاہ صاحب کا خط جو روانہ خدمت کرتا ہوں۔اس خط میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں، غیر مقلد نہ ہوں۔چونکہ میرصاحب بھی حنفی اور میرے مخلص دوست منشی احمد جان صاحب (خدا تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت کرے) جن کی بابرکت لڑکی سے یہ تجویز درپیش ہے۔پکے حنفی تھے اور ان کے مرید جو اس علاقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں سب حنفی ہیں۔اس لئے حنفیت کی قید بھی لگا دی گئی۔یوں تو حَنِیْفًا مُسْلِمًا میں سب مسلمان داخل ہیں لیکن اس قید کا جواب بھی معقولیت سے دیا جائے تو بہتر ہے۔اب میں تھوڑا سا حال منشی احمد جان صاحب کا سناتا ہوں۔منشی صاحب مرحوم اصل میں متوطن دہلی کے تھے۔شاید ایام مفسدہ ۱۸۵۷ء میں لودہانہ آ کر آباد ہوئے۔کئی دفعہ میری ان سے ملاقات ہوئی۔نہایت بزرگوار، خوبصورت، خوب سیرت، صاف باطن، متقی، باخدا اور متوکل آدمی تھے۔مجھ سے اس قدر دوستی اور محبت کرتے تھے کہ اکثران کے مریدوں نے اشارتاً اور صراحتاً بھی سمجھایا کہ آپ کی اس میں کسر شان ہے۔مگر انہوں نے ان کو صاف جواب دیا کہ مجھے کسی شان سے غرض نہیں اور نہ مجھے مریدوں سے کچھ غرض ہے۔اس پر بعض نالائق خلیفے ان کے منحرف بھی ہوگئے مگر انہوں نے جس اخلاص اور محبت پر قدم مارا تھا اخیر تک نبھاہا اور اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کی۔جب تک زندہ رہے خدمت کرتے رہے اور دوسرے تیسرے مہینے کسی قدر روپے اپنے رزق خداداد سے مجھے بھیجتے رہے اور میرے نام کی اشاعت کیلئے بدل و جان ساعی رہے اور پھر حج کی تیاری کی اور جیسا کہ