مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 597
سے اعراض کرے اور تاریخ مقررہ پر مقام مباہلہ میں حاضر نہ آوے۔اس پر خد اتعالیٰ کی لعنت ہو۔چنانچہ وہ اس سخت خط کو دیکھ کر بہر حال مباہلہ کے لئے تیار ہو گیا اور ایسا ہی ایک محمد حسین بٹالوی کو بھی لکھا گیا تھا۔مگر تاریخ مقررہ پر عبدالحق مباہلہ پر آگیا اور امرتسر میں جو بیرون دروازہ رام باغ عیدگاہ متصل مسجد ہے۔اس میں مباہلہ ہوا اور کئی سو آدمی جمع ہوئے۔یہاں تک کہ بعض انگریز پادری بھی آئے اور ہماری جماعت کے احباب شاید چالیس کے قریب تھے اور عبدالحق بھی آیا اور بہت سی بددعائیں دیں۔لیکن محمد حسین بٹالوی چارو ناچار مباہلہ کے میدان میں آیا۔مگر مباہلہ نہیں کیا اور سب لوگ معلوم کر گئے کہ وہ گریز کر گیا۔یہ سچی حقیقت ہے۔جس کا شاید د س ہزار کے قریب باشندہ امرتسر گواہ ہو گا۔اب جب تک پہلے مباہلہ کا فیصلہ نہ ہو دوسرا مباہلہ کیونکر ہو۔علاوہ اس کے اسی مباہلہ کی تاریخ پر میاں محی الدین لکھو کے والے اور ایسا ہی مولوی محمد جبارکو (عبدالجبار مراد ہے۔عرفانی) کو رجسٹری کرا کر خط بھیجا گیا کہ اس تاریخ پر تم بھی آکر مباہلہ کر لو۔اگر تاریخ مقررہ پر نہ آئے تو پھر کاذب ٹھہرو گے۔مگر بحالیکہ ان کی رسیدیں بھی آگئیں اور کافی مہلت بھی دی گئی۔لیکن وہ نہ آئے۔رسیدیں موجود ہیں۔ایسا ہی لودھیانہ میں بھی رجسٹری شدہ خط بھیجے گئے تھے اور دہلی اور پٹیالہ میں بھی۔غلام احمد عفی عنہ ۱۹؍ اگست ۱۸۹۳ء