مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 567
مکتوبات احمد ۵۶۷ جلد دوم میں پیدا کرتا ہے وہ مومن کو قوت دیتی ہے۔ ورنہ ہر ایک شخص فانی لذت کا طالب اور شیطانی خیال اس پر غالب ہے۔ مومن پر شیطان غالب نہیں آتا ۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے بیعت الموت کر چکا ہے۔ شیطان پر وہی فتح پاتا ہے جو بیعت الموت کرے ۔ جیسے کہ آپ کے اشعار میں رقت ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کے دل میں ایسی ہی سچی رقت پیدا کرے۔ ایک شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں شاعر تھا اور ایمان نہیں لایا تھا۔ ایک نفس پرست آدمی تھا ۔ لیکن شعر اس کے موحدانہ اور عارفانہ تھے۔ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعر سنے ، نہایت پاکیزہ تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا ۔ آمَنَ شِعْرَهُ وَكَفَرَ نَفْسَهُ ۔ یعنی شعر اس کا ایمان لایا اور نفس اس کا کافر ہوا۔ خدا تعالیٰ آپ کے شعر اور آپ کے دل کو ایک ہی نور سے منور کرے۔ مناسب ہے کہ یہ اشعار آپ جمع کرتے جائیں کیونکہ لطیف ہیں اور لاکم اور لائق جمع ہیں۔ مجھے باعث کثرت کار فراغت نہیں ورنہ میں جمع کرتا جاتا۔ تین روز سے لودھیانہ سے قادیان آگیا مولوی نوردین صاحب کا کچھ پتہ نہیں ۔ ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرما ۔ فرماتے رہیں ۔ ہوں ۔ مولا دعا میں بہت مشغول رہیں کہ تمام امن و آرام خدا تعالیٰ کی یاد میں ہے۔ ۱۳ رنومبر ۱۸۸۹ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ☆ ۲۸ مارچ ۱۸۸۹ ء صفحه ۳ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔