مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 567

مکتوب نمبر ۱۶۵ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس روز آپ کا خط اور دس روپیہ کا منی آرڈر پہنچا تھا۔اسی روز عاجز بباعث ایک عزیز کے سخت بیمار ہونے کے لدھیانہ آگیا ہے۔اس مجبوری سے آپ کی فرمائش کی تعمیل نہ ہو سکی نہایت ندامت ہے۔آپ کے اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ خد اوند کریم نے آپ کے دل میں طہارتِ باطنی کے لئے خالص جوش بخشا ہے۔اللہ تعالیٰ اس جوش میںترقی بخشے۔آمین۔والسلام خاکسار ۳۱؍ اکتوبر ۱۸۸۹ء غلام احمدعفی عنہ مکتوب نمبر ۱۶۶ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مشفقی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ معہ چند اشعار جو بہت عمدہ اور دل سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے تھے پہنچا۔افسوس کہ میرے تین خطوں سے ایک خط بھی آپ کے پاس نہیں پہنچا۔نہایت حیرت ہے۔جس روز قادیان میں انڈوں کے لئے آپ کا خط پہنچا تھا۔اسی دن لودھیانہ سے خط پہنچا کہ والدہ اُم بشیر سخت بیمار ہیں۔بمجرد دیکھنے کے چلے آئو۔لہذا بلاتوقف روانہ لودھیانہ ہونا پڑا۔اس وجہ سے انتظام انڈوں یا ان کے حلوہ کا نہ ہو سکا۔اب میں۵؍ نومبر ۱۸۸۹ء کو قادیان کی طرف تیار ہوں۔آئندہ جو خط آپ لکھیں۔قادیان آنا چاہیے۔پیراں دتا کی نسبت بہت فکر رکھیں۔والسلام خاکسار یکم نومبر ۱۸۸۹ء غلام احمد عفی عنہ