مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 536 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 536

مکتوبات احمد ۵۳۶ جلد دوم نوٹ : مکرمی چوہدری رستم علی صاحب کو سندر داس نامی ایک شخص سے محبت تھی اور وہ اسے عزیز سمجھتے تھے۔ اس کا ذکر مختلف مکتوبات میں آیا ہے۔ پھر محبت میں چوہدری صاحب کو غلو تھا اور یہ بھی ایک کمال تھا کہ وہ اسے محسوس تھا کہ وہ اسے محسوس کرتے تھے اور حضرت اقدس کو بار ہا لکھتے رہتے تھے۔ آخر وہ بیمار ہوا اور مر گیا ۔ اس پر یہ مکتوب حضرت نے تعزیت کا لکھا۔ (عرفانی) مکتوب نمبر ۱۲۱ ملفوف چاہیے ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و بركاته عنایت نامہ پہنچا۔ اس عاجز کے ساتھ ربط ملاقات پیدا کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو بدلا جائے ۔ تا عاقبت درس درست ہو ۔ سندر سندر داس داس کی وفات کے زیادہ غم سے آپ کو پر ہیز کرنا چا۔ خدا تعالیٰ کا ہر ایک کام انسان کی بھلائی کے لئے ہے ۔ گو انسان اس کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے بعد بیعت ایمان لینا شروع کیا تو اس بیعت میں یہ داخل تھا کہ اپنا حقیقی دوست خدا تعالیٰ کو ٹھہرایا جائے اور اس کے ضمن میں اس کے نبی اور درجہ بدرجہ تمام صلحاء کو اور بغیر علت دینی کے کسی کو دوست نہ سمجھا جائے ۔ یہی اسلام ہے جس سے آج کل کے لوگ بے خبر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ لے یعنی ایمانداروں کا کامل دوست خدا ہی ہوتا ہے وبس ۔ جس حالت میں انسان پر خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کا حق نہیں تو اس لئے خالص دوستی محض خدا تعالیٰ کا حق ہے۔ صوفیاء کو اس میں اختلاف ہے کہ جو مثلاً غیر سے اپنی محبت کو عشق تک پہنچاتا ہے اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ اکثر یہی کہتے ہیں کہ اس کی حالت حکم کفر کا رکھتی ہے ۔ گوا احکام کفر کے اس پر صادر نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ بباعث بے اختیاری مرفوع القلم ہے۔ تاہم اس کی حالت کافر کی صورت میں ہے کیونکہ عشق اور محبت کا حق اللہ جل شانہ کا ہے اور وہ بد دیانتی کی راہ سے خدا تعالیٰ کا حق دوسرے کو دیتا ہے اور یہ ایک ایسی صورت ہے۔ جس میں دین و دنیا دونوں کے وبال کا خطرہ البقرة: ١٦٦