مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 534
مکتوبات احمد ۵۳۴ جلد دوم شرارت سے اکثر نقصان ہو جاتا ہے۔ جس حالت میں بلٹی بھیجنا ہے تو قادیان ہی میں کیوں نہ بھیجی جاوے اور بشیر بفضل خدا وند قدیر خیر و عافیت سے ہیں اور رسالہ سراج منیر یقین ہے کہ جلد چھپنا شروع ہوگا ۔ ۱۴ فروری ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۱۲۰ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۱۴/۱۳ فروری ۱۸۸۸ء کی گزشتہ رات مجھے آپ کی نسبت دو ہولناک خوا ہیں آئی تھیں تھیں جن سے ایک سخت ہم و غم مصیبت معلوم ہوتی تھی۔ میں نہایت وحشت و تردد میں تھا کہ یہ کیا بات ہے اور غنودگی میں ایک الہام بھی ہوا کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں رہا۔ چنانچہ کل سندر داس کی وفات اور انتقال کا خط پہنچ گیا۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لا معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہی غم تھا۔ جس کی طرف اشارہ تھا۔ خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے ۔ ترا با که رو قرار کارت آخر در آشنائے است بر ز فرقت بر دلے که با میرنده ست جدائی باری نباشد اش کاری نباشد مجھے کبھی ایسا موقعہ چند مخلصانہ نصائح کا آپ کے لئے نہیں ملا جیسا آج ہے۔ جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی غیوری محبت ذاتیہ میں کسی مومن کی اس کے غیر سے شراکت نہیں چاہتی ۔ ایمان جو ہمیں سب سے پیارا ہے وہ اسی بات سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ ہم محبت میں دوسرے کو اس سے شریک نہ کریں ۔ البقرة: ۱۵۷