مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 479
مکتوب نمبر ۳۵ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ آپ کاعنایت نامہ پہنچا۔آپ کے لئے کئی دفعہ دعا کی ہے اور کی جائے گی۔کس بات کااندیشہ ہے؟ خداوندکریم جلّشانہٗ قادر مطلق ہے۔ابتلاء اور غم اور ّہم سے ثواب حاصل ہوتا ہے۔سو ذرّہ اندیشہ نہ کریں۔میں آپ کے لئے بہت دعا کروں گا۔اگر مزاج میں یُبسہو تو تازہ دودھ بکری کا علی الصباح ضرور پی لیاکریںاگر موافق آجاوے تو بہت عمدہ ہے اور کسی نوع کافکر نہ کریں۔اب رسالہ کاکام عنقریب شروع ہو گا۔والسلام ۲۶؍ اپریل ۱۸۸۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ بخدمت چوہدری محمد بخش صاحب سلام مسنون۔مکتوب نمبر ۳۶ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔رسالہ سرمہ چشم آریہ صرف ہزار کاپی چھپے گا۔انشاء اللہ القدیر جو شخص ایک دفعہ اس کو دیکھ لے گا، ہر کوئی حسب نیت و مذاقِ دینی اس کو ضرور خریدے گا۔اور یہ کام بہت تھوڑا ہے، اب جلد ختم ہونے والا ہے اوررسالہ سرمہ چشم آریہ تو چار ماہ تک ختم ہو گا۔اسی رسالہ میں انشاء اللہ القدیر اس کااشتہار دیاجائے گا۔چوہدری محمد بخش صاحب کوسلام مسنون۔والسلام خاکسار ۱۰؍ جون ۱۸۸۶ء غلام احمد عفی عنہ