مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 412
گفت معشوقم تو بودستی نہ آن لیک کار از کارخیزد در جہان سو خلاصہ تمام نصیحتوں کایہی ہے کہ آپ وہ قوت ایمانی دکھلاویں کہ اگر اس قدر انقلاب اور انصاب مصائب ہو کہ سر رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے تب بھی افسردہ نہ ہوں۔زکارِ بستہ میندیش و دل شکستہ مدار کہ آبِ چشمہ حیواں درونِ تاریکی ست ٭ والسلام ۲۲؍ مئی ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۸۴ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس جگہ سب خیریت ہے۔دعا کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے اورخدا تعالیٰ کے فضل پر امیدیں ہیں چو از راہ حکمت بہ بندد درے کشاید بفضل و کرم دیگرے کل کا نظارہ دیکھ کر میں خوش ہوا۔میرے مکان میں چار بلیاں رہتی ہیں، ایک والدہ ہے اور تین اس کی بیٹیاں وہ بھی جوان اورمضبوط ہیں۔کل کی دوپہر کے وقت میں میں اکیلا ادھرکے دالان میں بیٹھا تھا کہ میرے دروازے کے آگے ایک چڑیا آکر بیٹھ گئی، فی الفور بڑی بلّی نے حملہ کیا اورا س چڑیا کا سر منہ میں پکڑ لیا۔پھر دوسر ی بلی آئی اس نے وہ چڑیا پہلی بلّی سے لے کر اپنے قبضہ میں کر لی اور اس کاسر منہ میں پکڑ لیا اور زمین پر ایسا رگڑا کہ میں وہ حالت مارے رحم کے دیکھ نہ سکا اور دوسری طرف