مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 413
میںنے منہ کرلیا ا ور پھر جو میں نے دیکھا تو تیسری بلی نے ا س چڑیا کا سر اپنے منہ میں لیا اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ غالباً سر کھایا گیا۔اتنے میںچوتھی بلی نے اس چڑیا کو لیا اور زمین میں اسے رگڑا تب میںنے یقین کیا کہ چڑیا مر چکی اورسر کھا لیا گیا اور رگڑنے میں کئی دفعہ چڑیا زمین پر گر پڑی پھر ایک بلی نے چاہا کہ اس چڑیا کے گوشت میں کچھ حصہ لے۔اس نے اس چڑیا کو کھانے کے لئے اپنی طرف کھینچا شاید اس غرض سے کہ نصف پہلی بلی کے منہ میں رہے اورنصف آپ کھائے لیکن کسی سبب سے وہ چڑیا دونوں کے منہ سے نکل کر زمین پر جاپڑی اورگرتے ہی ُ پھر کر کے اڑ گئی۔چاروں بلیاں پیچھے دوڑیں مگر پھر کیا ہو سکتا تھا وہ کسی درخت پر جا بیٹھی اور بلیاں خائب وخا سر واپس آئیں۔اس واقعہ کو دیکھ کر میرے دل کو بہت جوش آیا کہ ا س طرح خد اتعالیٰ دشمنوں کے ہاتھ سے چُھڑاتا ہے۔تب میںنے یہ خیال کر کے کہ یہ وقت بہت مقبول ہے، آپ کے لئے بہت دیر تک دعا کی کہ اے خدائے قادر! جس طرح تونے اس عاجز چڑیا کو چار خونی دشمنوں سے چُھڑایا اسی طرح اپنے عاجز بندہ عبدالرحمن کی جان بھی چُھڑا۔آمین۔امید رکھتا ہوں کہ وہ دعا بھی خالی نہیں جائے گی۔والسلام ۳۰؍ جون ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد