مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 411

مکتوب نمبر ۸۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔موجودہ حالات سے آپ دلگیر نہ ہوں اور نہ کسی گھبراہٹ کو اپنے دل تک آنے دیں۔میں اپنی دعائوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہر گز خطا نہیں جائیں گی۔اگر ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو میں اس کو ممکن مانتا ہوں مگر وہ دعائیں جو آپ کے لئے کی گئی ہیں وہ ٹلنے والی نہیں۔ہاں میرے خدائے کریم وقدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعائوں کی قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے تا جو بدبخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں اورا س خاص طور کے فیض کا انہیں کو حصہ ملے جو خد اتعالیٰ عزّوجل کے دفتر میں سعید لکھے گئے ہیں۔اس لئے میں آپ کو کہتا ہوں کہ صبر سے انتظار کریں ایسا نہ ہو کہ آپ تھک جائیں اور وہ جو آپ کے لئے تخم بویا گیا ہے وہ سب برباد ہو جائے۔دنیا جلد تر آسمانی سلسلہ سے منہ پھیر لیتی ہے کیونکہ وہ نہیں جانتی کہ ایک خد اہے جوایک خا ک کی مٹھی کو سرسبز کر سکتا ہے۔اگر خدائے عزّوجل کا آپ کے حق میں کوئی نیک ارادہ نہ ہوتا تو مجھے آپ کے لئے اس قدر جوش نہ بخشتا۔یہ مت خیا ل کرو کہ بربادی درپیش ہے یا بکلّی ہو چکی ہے بلکہ اس خدا پر ایمان لائو جو ایک مُردہ نطفہ سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے۔اوریہ باتیں محض قیاسی نہیں بلکہ ہم اس خد اکی قدرتوں اور معجزوں کے نمونے دیکھ چکے ہیں جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔اورانسان میں خامی اوربیدلی صرف اسی وقت تک رہتی ہے جب تک اس قادر کریم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھا ہے لیکن نمونہ دیکھنے کے بعد وہ قادر خدا اس شے سے زیادہ پیارا ہو جاتا ہے جس کو طلب کیا گیا تھا۔اس وقت یہ خدا کو تمام چیزوں پر مقدم رکھ لیتا ہے اورپھر عمر بھر دوسری چیز کے ہونے یا نہ ہونے پر کبھی غم کرتا ہی نہیں کیونکہ اب وہ اپنے خد اکو ایک خزانہ جانتا ہے جن میں تمام جواہرات ہیں۔اسی کے موافق مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک عاشق تھا جو اپنے عشق میں نہایت بیتاب تھا۔آخر ایک باخدا آیا اور اس نے اس کومراد تک پہنچایا اور خدا کی طرف آنکھیں کھول دیں تب وہ اپنے اس جھوٹے معشوق سے برگشتہ ہو گیا اوراس مرد خدا کا دامن پکڑ لیا اور یہ کہا