مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 378

مکتوب نمبر ۴۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ نقد مرسلہ آنمکرم مجھ کو مل گیا۔خدا تعالیٰ آپ کو بہت بہت جزائے خیربخشے کہ باوجود اس قدر انواع اقسام تردّدات کے اس ہموم و غموم کے وقت میں آپ لِلّٰہِ خدمت میں سرگرمی سے مصروف ہیں لیکن باوجود اس علم کے کہ یہ کام اخلاص کا جوش آپ سے کراتا ہے پھر بھی خوشی سے ظاہر کرتا ہوں کہ جب تک یہ ہموم دور نہ ہوں اس وقت تک تکلیف نہ فرمائیں۔میں ہرگز دعامیں قاصر نہیں ہوں گااور میں دعا کو نہیں چھوڑوں گا جب تک صریح آثار نہ دیکھوں اور میں دعا میں مشغول ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل کا ہروقت، ہر لحظہ منتظر ہوں۔والسلام۔خاکسار ۱۷؍جولائی ۱۸۹۸ء مرزا غلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۴۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔عنایت نامہ پہنچا۔عاجز آپ کیلئے نماز میں اور خارج کے دعا میں مشغول ہے۔جس ذوالجلال خدا کی جنا ب میں دعا کی جاتی ہے وہ قدرت اور رحمت دونوں صفات اپنی ذات میں رکھتا ہے صرف ایک امر کی دیر ہے۔عقل مند کسی کی آزمائش کے بعد پھر اس میں شک نہیں کرسکتا۔میں نے بے شمار مرتبہ اس غفوررحیم کی رحمتوں کو آزمایا اور دیکھا ہے۔آپ کو وہ الہام یاد ہوگا۔قادر ہے وہ بادشاہ ٹوٹا کام بناوے۔۱؎ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ نہایت یقین سے آپ اس ذات پاک ربّ جلیل پر یقین رکھیں۔مجھے جس قدر اپنی دعاؤں کے قبول ہونے پر وثوق ہے یہ ایک ایسا راز ہے کہ