مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 287

مکتوب نمبر۷۷ ملفوف ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج مولوی مبارک علی صاحب جن کی نسبت آپ نے برخاستگی کی تجویز کی تھی، حاضر ہو گئے ہیں۔چونکہ وہ میرے استاد زادہ ہیں اور مولوی فضل احمد صاحب والد بزرگوار ان کے جو بہت نیک اور بزرگ آدمی تھے۔ان کے میرے پر حقوق استادی ہیں۔میری رائے ہے کہ اب کی دفعہ آپ ان کی لمبی رخصت پر اغماض فرماویں۔کیونکہ وہ رخصت بھی چونکہ کمیٹی کی منظوری سے تھی کچھ قابلِ اعتراض نہیں۔ماسوا اس کے چونکہ وہ واقعہ( میں ) ہم پر ایک حق رکھتے ہیں اور عفو اور کرم سیرتِ ابرار میں سے ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٌ۱؎ یعنی عفو اور درگذر کی عادت ڈالو۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدابھی تمہاری تقصیریں معاف کرے اورخداتو غفور رحیم ہے۔پھر تم غفور کیوں نہیں بنتے۔اس بناء پر ان کا یہ معاملہ درگذر کے لائق ہے۔اسلام میں یہ اخلاق ہرگز نہیں سکھلائے گئے۔ایسے سخت قواعد نصرانیت کے ہیں اور ان سے خداہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ماسوا اس کے چونکہ میں ایک مدت سے آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان کے گناہ معاف کرتا ہوں جو لوگوں کے گناہ معاف کرتے ہیں اور یہی میرا تجربہ ہے۔پس ایسانہ ہو کہ آپ کی سخت گیری کچھ آپ ہی کی راہ میں سنگ راہ نہ ہو۔ایک جگہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص فوت ہوگیا۔جس کے اعمال کچھ اچھے نہ تھے۔اس کو کسی نے خواب میںدیکھا کہ خدا تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اورفرمایا کہ تجھ میں یہ صفت تھی کہ تُو لوگوں کے گناہ معاف کرتا تھا اس لئے میں تیرے گناہ معاف کرتا ہوں۔سو میری صلاح یہی ہے کہ آپ اس امر سے درگذر کرو، تا آپ کو خدا تعالیٰ کی جناب میں درگزر کرانے کا موقعہ ملے۔اسلامی اصول انہی باتوں کا چاہتے ہیں۔دراصل ہماری جماعت کے ہمارے عزیز دوست جو خدمت مدرسہ پر لگائے گئے ہیں وہ ان طالب علم لڑکوں سے ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔جن کی نسبت ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ نیک معاش