مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 274

مکتوب نمبر۶۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کے خط کے جواب میں لکھتا ہوں کہ میں صرف چند روز کیلئے اہل و عیال کو ساتھ لے جاتا ہوں کیونکہ میں بیمار رہتا ہوں اور گھر میں بھی سلسلہ بیماری جاری ہے۔بچے بھی بیمار ہو جاتے ہیں۔بار بار مجھے خط پہنچتے ہیں۔حیران ہو جاتا ہوں اور محض اس امید پر کہ آپ یہاں تشریف رکھیں گے اور مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب یہاں ہیں۔میں نے یہ ارادہ کیا ہے اور یقین ہے اِنْ شَآئَ اللّٰہُجلدی یہ فیصلہ ہو جائے گا۔اس لئے میرے نزدیک آپ کا اس جگہ ٹھہرنا مناسب ہے۔آپ کے یہاں رہنے سے مکان میں برکت ہے۔امید ہے کہ آپ پسند نہیں فرمائیں گے کہ مکان ویران ہو جائے اور آنے والے مہمان خیال کریں گے کہ گویا سب لوگ اُجڑ گئے ہیں اور شماتتِ اعداء ہوگی۔ماسوا اس کے آپ اگر گورداسپور جائیں تو دو تین میل کے فاصلہ پر مجھ سے دُور رہیں گے۔ملاقات بھی تکلیف اُٹھانے کے بعد ہوگی پھر علاوہ اس کے خواہ نخواہ چھ سات (صد ۱؎)روپیہ کرایوں وغیرہ میں آپ کا خرچ آ جائے گا۔پہلے ہی مصارف کا نتیجہ ظاہر ہے۔اب اس قدر بوجھ اپنے سر پر ڈالنا مناسب نہیں ہے۔میرے خیال میں یہ سفر صرف چند روز کا ہے۔اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: یہ مکتوب۶؍ جولائی تا ۱۳؍ اگست ۱۹۰۴ء کے درمیانی عرصہ کا ہے۔تفصیل اصحابِ احمد جلد دوم حاشیہ صفحہ۴۸۱۔۴۸۲ پر مرقوم ہے۔