مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 18

مکتوب نمبر ۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج ایک نوٹ پچاس روپیہ کا آںمخدوم کی جانب سے میاں کریم بخش صاحب نے سیالکوٹ سے بھیجا ہے۔جزاکم اللّٰہ خیرًا۔چونکہ رسالہ سراج منیر کے چھپنے میں اب کچھ زیادہ دیر نہیں معلوم ہوتی اور اس کے سرمایہ کے لئے روپیہ کی بہت ضرورت ہوگی۔اس لئے اگر آںمخدوم بقیہ قیمت پچاس نسخہ یعنی ستاسی روپے آٹھ آنے بھی جلد تر بھیج دیں تو سرمایہ کتاب کی طبع کیلئے عین وقت میں کام آ جاسکے۔میں نے مبلغ پانسو روپیہ منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ سے قرض لیا تھا اور تین سَو روپیہ اور میرے پاس تھا وہ سب اس رسالہ پر خرچ آ گیا۔ماسوا اس کے ایک سَو یہ رسالہ مفت ہندوؤں اور آریوں اور عیسائیوں کو تقسیم کیا گیا۔اگرچہ ایک روپیہ بارہ آنے اس کی قیمت مقرر ہوئی مگر اس کے مصارف زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ قیمت کم درجہ کی رہی۔اکثر قریب کل کے مسلمانوں کا خیال دین کی طرف سے بکلّی اُٹھ گیا ہے۔ہمدردی، غمخواری، نیک ظنی یہ سب عمدہ صفتیں روز بروز رُوبہ کمی ہیں۔واللّٰہ خیروابقٰی آپ کی ملاقات خدا جانے کب ہوگی۔ہر ایک بات اُس قادر مطلق کے ارادہ پر موقف ہے۔والسلام از صدر انبالہ خاکسار ۴؍ نومبر ۱۸۸۶ء غلام احمد نوٹ: اس مکتوب میں جس رسالہ کی قیمت کیلئے حضرت حکیم الامت کو یاددہانی کرائی گئی ہے وہ سرمہ چشم آریہ ہے اور اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ اس کتاب کی سَو جلدیں اس وقت تک آپ مفت تقسیم کر چکے تھے۔(عرفانی)