مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 242

مکتوب نمبر۴۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ا گرچہ آں محب کی ملاقات پر بہت مدت گزر گئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اور دوستوں کی طرح آپ بھی تین چارماہ تک میرے پاس رہ سکیں۔لیکن اس خانہ داری کے صدمہ سے جو آپ کو پہنچ گیا ہے۔بڑی مشکلات پید اہو گئی ہیں۔یہ روک کچھ ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ ایک دو سال تک بھی دور ہو سکے بلکہ یہ دائمی اور اس وقت تک ہے کہ ہم دنیا سے چلے جائیں۔غرض سخت مزاحم معلوم ہوتی ہے۔صرف یہ ایک تدبیر ہے کہ آپ کی طرف سے ایک زنانہ مکان بقدر کفایت قادیان میں تیار ہو۔اور پھر کبھی کبھی معہ قبائل اور سامان کے اس جگہ آجایا کریں اوردو تین ماہ تک رہا کریں لیکن یہ بھی کسی قدر خرچ کا کام ہے اور پھر ہمت کاکام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسباب پیدا کردے اوراپنی طرف سے ہمت اور توفیق بخشے۔دنیا گذشتنی و گذاشتنی ہے۔وقت آخر کسی کو معلوم نہیں۔اس لئے دینی سلسلہ کو کامل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔دانشمند کے لئے فجر سے شام تک زندگی کی امید نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے کسی سے یہ عہد نہیں کیا کہ اس مدت تک زندہ رہے گا۔ماسوا اس کے ہمارے ملک میں طاعون نے ہی ایسے پیرجمائے ہیں کہ دن بدن خطرناک حالت معلوم ہوتی ہے۔مجھے ایک الہام میں معلوم ہوا تھا کہ اگر لوگوں کے اعمال میں اصلاح نہ ہوئی تو طاعون کسی وقت جلد پھیلے گی اور سخت پھیلے گی۔ایک گائوں کو خدامحفوظ رکھے گا۔وہ گائوں پریشانی سے بچایا جائے گا۔میں اپنی طرف سے گمان کرتاہوں کہ وہ گائوں غالباً قادیان ہے اوربڑا اندیشہ ہے کہ شاید آئندہ سال کے ختم ہونے تک خطرناک صورت پر طاعون پھیل جائے اس لئے میں نے اپنے دوستوں کو یہ بھی صلاح دی تھی کہ وہ مختصر طور پر قادیان میں مکان بنا لیں۔مگر یہی وقت ہے اور پھر شاید وقت ہاتھ سے جاتارہے۔سو آں محب بھی ا س بات کو مکتوب نمبر۴۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ا گرچہ آں محب کی ملاقات پر بہت مدت گزر گئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اور دوستوں کی طرح آپ بھی تین چارماہ تک میرے پاس رہ سکیں۔لیکن اس خانہ داری کے صدمہ سے جو آپ کو پہنچ گیا ہے۔بڑی مشکلات پید اہو گئی ہیں۔یہ روک کچھ ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ ایک دو سال تک بھی دور ہو سکے بلکہ یہ دائمی اور اس وقت تک ہے کہ ہم دنیا سے چلے جائیں۔غرض سخت مزاحم معلوم ہوتی ہے۔صرف یہ ایک تدبیر ہے کہ آپ کی طرف سے ایک زنانہ مکان بقدر کفایت قادیان میں تیار ہو۔اور پھر کبھی کبھی معہ قبائل اور سامان کے اس جگہ آجایا کریں اوردو تین ماہ تک رہا کریں لیکن یہ بھی کسی قدر خرچ کا کام ہے اور پھر ہمت کاکام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسباب پیدا کردے اوراپنی طرف سے ہمت اور توفیق بخشے۔دنیا گذشتنی و گذاشتنی ہے۔وقت آخر کسی کو معلوم نہیں۔اس لئے دینی سلسلہ کو کامل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔دانشمند کے لئے فجر سے شام تک زندگی کی امید نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے کسی سے یہ عہد نہیں کیا کہ اس مدت تک زندہ رہے گا۔ماسوا اس کے ہمارے ملک میں طاعون نے ہی ایسے پیرجمائے ہیں کہ دن بدن خطرناک حالت معلوم ہوتی ہے۔مجھے ایک الہام میں معلوم ہوا تھا کہ اگر لوگوں کے اعمال میں اصلاح نہ ہوئی تو طاعون کسی وقت جلد پھیلے گی اور سخت پھیلے گی۔ایک گائوں کو خدامحفوظ رکھے گا۔وہ گائوں پریشانی سے بچایا جائے گا۔میں اپنی طرف سے گمان کرتاہوں کہ وہ گائوں غالباً قادیان ہے اوربڑا اندیشہ ہے کہ شاید آئندہ سال کے ختم ہونے تک خطرناک صورت پر طاعون پھیل جائے اس لئے میں نے اپنے دوستوں کو یہ بھی صلاح دی تھی کہ وہ مختصر طور پر قادیان میں مکان بنا لیں۔مگر یہی وقت ہے اور پھر شاید وقت ہاتھ سے جاتارہے۔سو آں محب بھی ا س بات کو مکتوب نمبر۴۲ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ا گرچہ آں محب کی ملاقات پر بہت مدت گزر گئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ اور دوستوں کی طرح آپ بھی تین چارماہ تک میرے پاس رہ سکیں۔لیکن اس خانہ داری کے صدمہ سے جو آپ کو پہنچ گیا ہے۔بڑی مشکلات پید اہو گئی ہیں۔یہ روک کچھ ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ ایک دو سال تک بھی دور ہو سکے بلکہ یہ دائمی اور اس وقت تک ہے کہ ہم دنیا سے چلے جائیں۔غرض سخت مزاحم معلوم ہوتی ہے۔صرف یہ ایک تدبیر ہے کہ آپ کی طرف سے ایک زنانہ مکان بقدر کفایت قادیان میں تیار ہو۔اور پھر کبھی کبھی معہ قبائل اور سامان کے اس جگہ آجایا کریں اوردو تین ماہ تک رہا کریں لیکن یہ بھی کسی قدر خرچ کا کام ہے اور پھر ہمت کاکام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسباب پیدا کردے اوراپنی طرف سے ہمت اور توفیق بخشے۔دنیا گذشتنی و گذاشتنی ہے۔وقت آخر کسی کو معلوم نہیں۔اس لئے دینی سلسلہ کو کامل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔دانشمند کے لئے فجر سے شام تک زندگی کی امید نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے کسی سے یہ عہد نہیں کیا کہ اس مدت تک زندہ رہے گا۔ماسوا اس کے ہمارے ملک میں طاعون نے ہی ایسے پیرجمائے ہیں کہ دن بدن خطرناک حالت معلوم ہوتی ہے۔مجھے ایک الہام میں معلوم ہوا تھا کہ اگر لوگوں کے اعمال میں اصلاح نہ ہوئی تو طاعون کسی وقت جلد پھیلے گی اور سخت پھیلے گی۔ایک گائوں کو خدامحفوظ رکھے گا۔وہ گائوں پریشانی سے بچایا جائے گا۔میں اپنی طرف سے گمان کرتاہوں کہ وہ گائوں غالباً قادیان ہے اوربڑا اندیشہ ہے کہ شاید آئندہ سال کے ختم ہونے تک خطرناک صورت پر طاعون پھیل جائے اس لئے میں نے اپنے دوستوں کو یہ بھی صلاح دی تھی کہ وہ مختصر طور پر قادیان میں مکان بنا لیں۔مگر یہی وقت ہے اور پھر شاید وقت ہاتھ سے جاتارہے۔سو آں محب بھی ا س بات کو سوچ لیں۔اور عید کی تقریب پر اکثر