مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 16

قرابت بھی رکھتے تھے۔مگر خدا تعالیٰ سے دورہی نہ تھے، گو نہ منکر تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس ذریعہ سے ان پر اتمام حجت کیا۔حضرت حکیم الامت کو آپ نے بشارات سے اطلاع دی۔جہاں تک میرا علم ہے۔حضرت حکیم الامت اس امر پر آمادہ تھے کہ اپنی لڑکی حضرت کو دے دیں بشرطیکہ وہ قابل نکاح ہوتی۔حضرت اقدس نے اس خط کے ذریعہ تصریح فرمائی کہ آپ اپنے احباب کو قبل ازوقت بعض الہامات سے اطلاع کیوں دیتے ہیں اور وہ ایک ہی غرض ہے کہ ان کی ایمانی قوت ترقی کرے۔دوسرے اِس خط سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذاتی طور پر تیسرے نکاح کو پسند نہ کرتے تھے بلکہ کارہِ ہونا صاف لکھا ہے اور یہ بھی کہ آپ نے عہد کر لیا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ صریح حکم مجبور نہ کیا جاؤں، نکاح نہیں کروں گا۔اس سے ان لوگوں کے تمام اعتراضات دور ہو جاتے ہیں۔جو نعوذ باللہ آپ پر نفس پرستی کا اسی طرح الزام لگاتے ہیں جس طرح آریہ اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں۔(عرفانی) ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔یہ بات عین منشاء اس عاجز کے مطابق ہوئی کہ آپ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔انشاء اللہ کسی موقعہ پر ترقی بھی ہو جائے گی۔امید ہے کہ ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں٭۔والسلام خاکسار ۷؍ جولائی ۱۸۸۶ء غلام احمد عفی عنہ از قادیان