مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 16
مکتوبات احمد ۱۶ جلد دوم ۔ قرابت بھی رکھتے تھے ۔ مگر خدا تعالیٰ سے دور ہی نہ تھے ، گو نہ منکر تھے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس ذریعہ سے ان پر اتمام حجت کیا ۔ حضرت حکیم الامت کو آپ نے بشارات سے اطلاع دی۔ جہاں تک میرا علم ہے ۔ حضرت حکیم الامت اس امر پر آمادہ تھے کہ اپنی لڑکی حضرت کو دے دیں بشرطیکہ وہ قابل نکاح ہوتی ۔ حضرت اقدس نے اس خط کے ذریعہ تصریح فرمائی کہ آپ اپنے احباب کو قبل از وقت بعض الهامات سے اطلاع کیوں دیتے ہیں اور وہ ایک ہی غرض ہے کہ ان کی ایمانی قوت ترقی کرے۔ دوسرے اِس خط سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذاتی طور پر تیسرے نکاح کو پسند نہ کرتے تھے بلکہ کا رہ ہونا صاف لکھا ہے اور یہ بھی کہ آپ نے عہد کر لیا یا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ صریح حکم مجبور نہ کیا جاؤں ، نکاح نہیں کروں گا۔ اس سے ان لوگوں کے تمام اعتراضات دور ہو جاتے ہیں ۔ جو نعوذ باللہ آپ پر نفس پرستی کا اسی طرح الزام لگاتے ہیں جس طرح آریہ اور عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں ۔ ( عرفانی ) ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ یہ بات عین منشاء اس عاجز کے مطابق ہوئی کہ آپ کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا ۔ انشاء اللہ کسی موقعہ پر ترقی بھی ہو جائے گی ۔ امید ہے کہ ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں ۔ والسلام ے جولائی ۱۸۸۶ء الحکم ۷ ارجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶ خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان