مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 15

مکتوب نمبر ۵ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز نے جو آپ کی طرف لکھا تھا وہ صرف دوستانہ طور پر بعض اَسرارِالہامیہ پر مطلع کرنے کی غرض سے لکھا گیا تھا کیونکہ اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوتِ ایمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ امورغیبیہ بتلا دیتا ہے اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کیلئے اشارہ غیبی ہوا ہے تب سے خود طبیعت متفکر و متردّد ہے اور حکمِ الٰہی سے گریز کی جگہ نہیں۔مگر بالطبع کارہ ہے اور ہر چند اوّل اوّل یہ چاہا کہ یہ امر غیبی موقوف رہے لیکن متواتر الہامات و کشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیر مبرم ہے۔بہرحال عاجز نے یہ عہد کر لیا ہے کہ کیسا ہی موقعہ پیش آوے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم سے اس کے لئے مجبور نہ کیا جاؤں تب تک کنارہ کش رہوں۔کیونکہ تعدّدِ ازدواج کے بوجھ اور مکروہات از حد زیادہ ہیں اور اس میں خرابیاں بہت ہیں اور وہی لوگ ان خرابیوں سے بچے رہتے ہیں جن کو اللہ جلّشانہٗ اپنے ارادہ خاص سے اور اپنی کسی خاص مصلحت سے اور اپنے خاص اعلام و الہام سے اس بار گراں کے اُٹھانے کیلئے مامور کرتا ہے۔تب اس میں بجائے مکروہات کے سراسر برکات ہوتے ہیں۔آپ کے نوکری چھوڑنے سے بظاہر دل کو رنج ہے مگر آپ نے کوئی مصلحت سوچ لی ہوگی۔والسلام باقی خیریت ہے٭۔والسلام ۲۰؍ جون ۱۸۸۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک تیسرے نکاح کے متعلق بعض بشارات ملی تھیں۔یعنی ان سے پایا جاتا تھا کہ ایک تیسرا نکاح ہوگا۔چنانچہ اس کے متعلق ایک تحریک بھی ہوئی۔وہ نکاح کی تحریک اور پیشگوئی دراصل ایک نشان تھا جو ایسے خاندان کیلئے مخصوص تھا جو آپ کے ساتھ تعلقات