مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 214
مکتوبات احمد ۲۱۴ جلد دوم اشتہارات شائع کر رہے ہیں۔ اس لئے میں نے کنویں کے چندہ میں سے عمارت کو شروع کرا دیا ہے۔ تا جلد پر دہ ہو جائے ۔ اگر اس قدر پکا مکان بن جاوے جو پہلے کچا تھا تو شاید آئندہ کسی سال اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو اوپر کا مردانہ حصہ بن سکے ۔ افسوس کہ لکڑی چھت کی محض بیکار نکلی اور ایسی بوسیدہ کہ اب جلانے کے کام میں آتی ہے۔ لہذا قریباً چار سو روپیہ کی لکڑی چھت وغیرہ کے لئے درکار ہو گی ۔ خدا تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں ۔ اگر اس نے چاہا ہے تو کسی طرح سے انجام کر دے گا ۔ یقین کہ مولوی صاحب کا علیحدہ خط آپ کو پہنچے گا ۔ والسلام ۶ را پریل ۱۸۹۶ء ** خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۱۸ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آخر مولوی صاحب کی وہ پیاری لڑکی جس کی شدت بیماری کی وجہ سے مولوی صاحب آ نہ سکے کل نماز عصر سے پہلے اس جہان فانی سے کوچ کرگئی ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ اس کی والدہ مصیبت کی حالت میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو صبر بخشے ۔ والسلام ۱۷ را پریل ۱۸۹۷ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ : یہ لڑکی حضرت حکیم الامۃ کی چھوٹی لڑکی ایک سال کی تھی اور اس کی وفات کے متعلق حضرت حکیم الامہ کو خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ پہلے ہی بتا دیا تھا۔ یوں تو حضرت حکیم الامۃ خدائے تعالیٰ کی مقادیر سے پہلے ہی مسالمت تامہ رکھتے تھے۔ مگر خدائے تعالیٰ نے جب قبل از وقت ان کو بتا دیا تھا تو انہیں نہ صرف ایک راحت بخش یقین اور معرفت پیدا ہوئی ۔ بلکہ خدائے تعالیٰ کے اس انعام اور فضل پر انہوں نے شکریہ کا اظہار کیا تھا۔ ان ایام میں نواب صاحب نے مولوی صاحب کو بلایا تھا ۔ اسی وجہ سے آپ نہیں جا سکے تھے ۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے ۔ (عرفانی )