مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 213
مکتوب نمبر۱۷ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں آں محب کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔آپ کی محبت اور اخلاص اور ہمدردی میں کچھ شک نہیں۔ہاں میں ایک استاد کی طرح جو شاگردوں کی ترقی چاہتا ہے۔آئندہ کی زیادہ قوت کے لئے اپنے مخلصوں کے حق میں ایسے الفاظ بھی استعمال کرتا ہوں جن سے وہ متنبہ ہو کر اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ قوتیں ظاہر کریں اور دعا یہی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی کمزوریاں دور فرماوے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کا تمام کاروبار اور اس کی نمائش اور عزتیں حباب کی طرح ہیں اور نہایت سعادت مندی اسی میں ہے کہ پورے جوش سے اور پوری صحت کے ساتھ دین کی طرف حرکت کی جائے اور میرے نزدیک بڑے خوش نصیب وہ ہیں کہ اس وقت اور میری آنکھوں کے سامنے دکھ اٹھا کر اپنے سچے ایمان کے جوش دکھاویں۔مجھے خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس زمانہ کے لئے تجھے گواہ کی طرح کھڑا کروں گا۔پس کیا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے بارے میں اچھی گواہی ادا کر سکوں۔اس لئے میں بار بار کہتا ہوں کہ خد اکا خوف بہت دل میں بڑھا لیا جائے۔تا اس کی رحمتیں نازل ہوں اورتا وہ گناہ بخشے۔آپ کے دو خط آنے کے بعد ہمارے اس جگہ کے دوستوں نے اس رائے کو پسند کیا کہ جو زنانہ گھر کے حصہ مغربی کے مکانات کچے اور دیوار کچی ہے۔اس کو مسمار کر کے اس کی چھت پر مردانہ مکان تیار ہو جائے اور نیچے کامکان بدستور گھر سے شامل رہے۔چنانچہ حکمت الٰہی سے یہ غلطی ہو گئی کہ وہ کل مکان مسمار کر دیا گیا۔اب حال یہ ہے کہ مردانہ مکان تو صرف اوپر تیار ہو سکتا ہے اور زنانہ مکان جو تمام گرایا گیا ہے۔اگر نہایت ہی احتیاط اور کفایت سے اس کو بنایا جاوے تو شاید ہے کہ آٹھ سو روپیہ تک بن سکے۔کیو نکہ اس جگہ اینٹ پردوہری قیمت خرچ ہوتی ہے اور مجھے یقین نہیں کہ چار سور وپیہ کی لکڑی آکر بھی کام ہوسکے۔بہرحال یہ پہلی منزل اگر تیار ہو جائے تو بھی بیکار ہے۔جب تک دوسری منزل اس پر نہ پڑے۔کیونکہ مردانہ مکان اسی چھت پر پڑ گیا اور چونکہ ایک حصہ مکان گرنے سے گھر بے پردہ ہورہا ہے اور آج کل ہندو بھی قتل وغیرہ کے لئے بہت کچھ