مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 215
مکتوب نمبر۱۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبلغ دو سو روپیہ کے نصف نوٹ آج کی تاریخ آگئے۔عمارت کا یہ حال ہے کہ تخمینہ کیا گیاہے کہ نو سو روپیہ تک پہلی منزل جس پر مکان مقصود بنانے کی تجویز ہے، ختم ہو گی۔کل صحیح طورپر اس تخمینہ کو جانچا گیا ہے۔اب تک تین سو پچاس روپیہ تک لکڑی اور اینٹ اور چونہ اور مزدوروں کے بارے میں خرچ ہوا ہے۔معماران کی مزدوری تین سو پچاس سے الگ ہے۔اس لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی منزل کے تیار ہونے کے بعد بالفعل عمارت کو بند کردیا جاوے۔کیونکہ کوئی صورت اس کی تکمیل کی نظر نہیں آتی۔یہ اخراجات گویا ہر روز پیش آتے ہیں۔ان کے لئے اوّل سرمایہ ہو تو پھر چل سکتے ہیں۔شاید اللہ جلّشانہٗ اس کا کوئی بندوبست کر دیوے۔بالفعل اگر ممکن ہو سکے تو آں محب بجائے پانچ سَو روپیہ کے سات سو روپیہ کی امداد فرما ویں۔دو سو روپیہ کی جو کمی ہے وہ کنویں کے چندہ میں سے پوری کر دی جاوے گی اور بالفعل کنواں بنانا موقوف رکھا جاوے گا۔پس اگر سات سو روپیہ آپ کی طرف سے ہو۔اور دو سو روپیہ کنویں کے اس طرح پر نو سو روپیہ تک پہلی منزل انشاء اللہ پوری ہو جائے گی۔اور کیا تعجب ہے کچھ دنوں کے بعد کوئی اور صاحب پیدا ہو جائیں تو وہ دوسری منزل اپنے خرچ سے بنوا دیں۔نیچے کی منزل مردانہ رہائش کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ زنانہ مکان سے ملی ہوئی ہے مگر اوپر کی منزل اگر ہوجائے تو عمدہ ہے۔مکان مردانہ بن جائے گا جس کی لاگت بھی اسی قدر یعنی نوسو یا ہزار روپیہ ہو گا۔میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو اس وقت میں نے تکلیف دی اور ذاتی طور پر مجھ کو کسی مکان کی حاجت نہیں۔خیال کیا گیا تھا کہ نیچے کی منزل میں ایسی عورتوں کے لئے مکان تیار ہو گا جو مہمان کے طور پر آئیں اور اوپر کی منزل مردانہ مکان ہو۔سو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس خیال کو پورا کر دے گا۔والسلام ۴؍ مئی ۱۸۹۷ء خاکسار غلام احمد