مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 202
مکتوبات احمد ۲۰۲ جلد دوم میں سے تھے ۔ آ ہیں ۔ شاید مولوی صاحب کو بشریت سے یہ افسوس ہوا ہو گا کہ آپ اول درجہ کے اور خاص جماعت تھے۔ آپ کے نزدیک یہ خیال تک آنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ ہماری غائبانہ نگاہ میں آپ اوّل درجہ کے محبوں اور مخلصوں میں سے ہیں ۔ جن کی روز بروز ترقیات کی امید ہے ۔ اور مولوی صاحب اپنے گھر کی بیماریوں کی وجہ سے بڑے ابتلا میں رہے ہیں اور ان کے گھر کے لوگ مرمر کے بچے ہیں اس لئے وہ زیادہ خط و کتابت نہیں کر سکے اور اب وہ شاید بیس روز سے سندھ کے ملک میں ہیں اور پھر غالباً بہاولپور میں جائیں گے اور اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب شاید ہفتہ عشرہ تک یہاں پر تشریف رکھتے ہیں اور اس عاجز کا نیک ظن اور دلی محبت آپ سے وہی ہے جو تھی اور امید رکھتا ہوں کہ دن بدن ترقی ہو۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: آتھم کے متعلق پیشگوئی کی میعاد ۴ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ختم ہوئی ۔ اس پیشگوئی پر حضرت نواب صاحب کو ابتلا آیا اور حضور کی خدمت میں نے رستمبر کو ایک خط لکھا جس کا جواب حضور نے جو تحریر فرمایا۔ حضرت عرفانی صاحب کے شائع کردہ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر چہارم میں ساتویں نمبر پر ہے جس کے جواب میں نواب صاحب نے جو کچھ لکھا۔ پھر اس کے جواب میں حضور نے مکتوب ہذا تحریر فرمایا مکتوب نمبرے میں ایک ہزاری انعام والے اشتہار کے چھپ جانے کا ذکر ہے اور ابھی انوار الاسلام کی صرف تصنیف ہوئی تھی طباعت نہ ہوئی تھی اور اشتہار دو ہزاری بھی ابھی معرض وجود میں نہ آیا تھا۔ سو مکتوب زیر بحث بھی اشتہار ایک ہزاری کے شائع ہونے کی تاریخ (۹ رستمبر ۱۸۹۴ء) اور اشتہا را انعام دو ہزار کی تاریخ ( ۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ء) کے مابین عرصہ کا ہے۔ ( ملک صلاح الدین ) ے یہ لفظ اصل مکتوب میں خاکسار سے پڑھا نہیں گیا انداز انگاہ سمجھا ہے۔