مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 201

مکتوبات احمد ۲۰۱ جلد دوم نوٹ از مرتب : مجھے اس کی نقل دیکھنے کا موقعہ ملا ہے جس پر مرقوم ہے کہ اصل مکتوب جس جس جگہ دریدہ ہے وہاں نقطے ڈال دئے گئے ہیں ۔ اس الہام کو خاکسار ہی کو پہلی بار شائع کرنے کی توفیق ملی ہے اس سے قبل لٹریچر میں موجود نہ تھا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ۔ الہام کے بعد جو حصہ مکتوب کا دریدہ ہے وہ الہام کے ترجمہ کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے ۔ ☆☆☆ مکتوب نمبر ۱۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي - محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلمۂ تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا۔ جو کچھ آپ نے اپنی محبت اور اخلاص کے جوش سے لکھا ہے در حقیقت مجھ کو یہی امید تھی اور میرے ظاہری الفاظ صرف اس غرض سے تھے کہ تا میں لوگوں پر یہ ثبوت پیش کروں کہ آں محبّ اپنے دلی خلوص کی وجہ سے نہایت استقامت پر ہیں۔ سو الْحَمْدُ لِلهِ کہ میں نے آپ کو ایسا ہی پایا۔ میں آپ سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دُعا کرتا ہوں کہ اس جہاں کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دارالسلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھاوے اور جو ابتلا پیش آیا تھا وہ حقیقت میں بشری طاقتوں کو ، اگر وہ سمجھنے سے قاصر ہوں ، معذور رکھتا ہے ۔ حدیبیہ کے قصہ میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ صحابہ کو ایسا ابتلا پیش آیا کہ كَادُوا أَن يُهْلَكُوا یعنی قریب تھا کہ اُس ابتلا سے ہلاک ہو جائیں ۔ یہی ہلاک‘ کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے آپ نے استعمال کیا تھا ۔ گویا اس بے قراری کے وقت میں حدیث کے لفظ سے تو ارد ہو گیا ہے بشری کمزوری ہے ۔ جو عمر فاروق جیسے قوی الایمان کو بھی حدیبیہ کے ابتلا میں پیش آ گئی تھی ۔ یہاں تک کہ اُنہوں نے کہا کہ عملت لذالک اَعْمَالا یعنی یہ کلمہ شک کا جو میرے منہ سے نکلا تو میں نے اس قصور کا تدارک صدقہ خیرات اور عبادت اور دیگر اعمال صالحہ سے کیا ۔ مولوی محمد احسن صاحب ایک جامع رسالہ بنانے کی فکر میں ہیں شاید جلد شائع ہو اور مولوی صاحب یعنی مولوی حکیم نوردین صاحب آپ سے ناراض نہیں ہیں آپ سے محبت رکھتے