مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 187

مکتوبات احمد ۱۸۷ جلد دوم میں اپنی محرف انجیل کا ترجمہ کر کے اور ایسا ہی دوسری کتا بیں اسلام کے مقابل پر ہر ایک زبان میں لکھ کر تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔ بعض تھیڑ کے پیرا یہ میں اسلام کی بُری تصویر لوگوں کے دلوں میں جماتے ہیں اور ان کاموں میں کروڑ ہا رو پید ان کا خرچ ہوتا ہے۔ اور بعض ایک فوج بنا کر اور مکتی فوج اس کا نام رکھ کر ملک بہ ملک پھرتے ہیں اور ایسا ہی اور کارروائیوں نے بھی ، جو اُن کے مرد بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں بھی ، کروڑ ہا بندگانِ خدا کو نقصان پہنچایا ہے اور بات انتہا تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے ضرور تھا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح کی روحانیت جوش میں آتی اور اپنی شبیہ کے نزول ما کے لئے جو اس کی حقیقت سے متحد ہو ، تقاضا کرتی ۔ سو اس عاجز کے صدق کی شناخت کے لئے یہ ایک ہو، ۔سواس بڑی علامت ہے مگر ان کے لئے جو سمجھتے ہیں۔ اسلام کے صوفی جو قبروں سے فیض طلب کرنے کے عادی ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ایک فوت شدہ نبی یا ولی کی روحانیت کبھی ایک زندہ مرد خدا سے متحد ہو جاتی ہے جس کو کہتے ہیں فلاں ولی موسیٰ کے قدم پر ہے اور فلاں ابراہیم کے قدم پر یا محمدی المشرب اور ابراہیمی المشرب نام رکھتے ہیں ۔ وہ ضرور اس دقیقہ معرفت کی طرف توجہ کریں ۔ (۳) تیسری علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ بعض اہل اللہ نے اس عاجز سے بہت سے سال پہلے اس عاجز کے آنے کی خبر دی ہے ۔ یہاں تک کہ نام اور سکونت اور عمر کا حال بتصریح بتلا دیا ہے جیسا کہ نشان آسمانی “ میں لکھ چکا ہوں ۔ (۴) چوتھی علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ اس عاجز نے بارہ ہزار کے قریب خط اور اشتہار الہامی برکات کے مقابلہ کے لئے مذاہب غیر کی طرف روانہ کئے بالخصوص پادریوں میں سے شاید ایک بھی نامی پادری یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں باقی نہیں رہا ہوگا جس کی طرف خط رجسٹری کر کے نہ بھیجا ہو ۔ مگر سب پر حق کا رعب چھا گیا ۔ اب جو ہماری قوم کے مثلاً مولوی لوگ اس دعوت میں ت میں نکتہ چینی کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ ان کی دروغگو کی اور نجاست خواری ہے ۔ مجھے یہ ہے۔ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئے گا تو میں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہوگا ۔ پھر یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شک رکھتے ہیں کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے ۔ کسی پادری یا پنڈت کو کہہ دیں کہ یہ شخص در حقیقت مفتری ہے، اس کے ساتھ مقابلہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں ہم ذمہ دار ہیں پھر خدا تعالیٰ خود فیصلہ