مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 186
نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا تب آخر ہو گا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی اُمت کی نالائق کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اورحقیقتِ محمدیہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہوکر جلوہ گر ہوتا ہے اور جو احادیث میں آیا ہے مہدی پید اہو گا اوراس کا نام میرا ہی نام ہو گا اور اس کا خُلق میرا ہی خلق ہوگا۔اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اسی نزولِ روحانیت کی طرف اشارہ ہے لیکن وہ نزولِ کسی خاص فرد میں محدود نہیں۔صدہا ایسے لوگ گزرے ہیں جن میں حقیقتِ محمدیہ متحقق تھی اور عنداللہ ظلّی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمتِ مرحومہ ان فسادوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہی ہے جو حضرت عیسیٰ کی اُمت کو پیش آئے اور آج تک ہزار ہا صلحاء اور اتقیاء اس اُمت میں موجود ہیں کہ جو قحبہ دنیا کی طرف پشت دے کر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح کی روح میں عیسائیوں کے دل آزار و عظوں اور نفرتی کاموں اور مشرکانہ تعلیموں اور نبوت میں بیجا دخلوں اور خدائے تعالیٰ کی ہمسری کرنے نے پید اکردیا۔اس زمانہ میں یہ جوش حضرت موسیٰ کی روح کو بھی اپنی اُمت کے لئے نہیں آسکتا تھا کیونکہ وہ تونابود ہو گئی۔اور اب صفحہ دنیا میں ذرّیت ان کی بجز چند لاکھ کے باقی نہیں اور وہ بھی ۱؎ کے مصداق اور اپنی دنیا داری کے خیالات میں غرق اور نظروں سے گرے ہوئے ہیں لیکن عیسائی قوم اس زمانہ میںچالیس کروڑ سے کچھ زیادہ ہے اور بڑے زور سے اپنے دجّالی خیالات کو پھیلا رہی ہے اور صدہا پیرایوں میں اپنے شیطانی منصوبوں کو دلوں میں جاگزین کر رہی ہے۔بعض واعظوں کے رنگ میں پھرتے ہیں۔بعض گویّئے بن کر گیت گاتے ہیں۔بعض شاعر بن کر تثلیث کے متعلق غزلیں سناتے ہیں۔بعض جوگی بن کر اپنے خیالات کو شائع کرتے پھرتے ہیں۔بعض نے یہی خدمت لی ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں