مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 188
کردے گا۔میں اس بات پر راضی ہوں کہ جس قدر دنیا کی جائیداد یعنی اراضی وغیرہ بطور وراثت میرے قبضہ میں آئی ہے بحالت در وغگو نکلنے کے وہ سب اس پادری یا پنڈت کو دے دوں گا۔ا گر وہ دروغگو نکلا تو بجز اس کے اسلام لانے کے میں اس سے کچھ نہیں مانگتا۔یہ بات میں نے اپنے جی میں جزماً ٹھہرائی ہے اورتہ دل سے بیان کی ہے اور اللہ جلّشانہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس مقابلہ کے لئے تیار ہوں اوراشتہار دینے کے لئے مستعد۔بلکہ میں نے تو بارہ ہزار اشتہار شائع کر دیا ہے۔بلکہ میں بُلاتا بُلاتا تھک گیا۔کوئی پنڈت پادری نیک نیتی سے سامنے نہیں آیا۔میری سچائی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ میں اس مقابلہ کے لئے ہر وقت حاضر ہوں۔اور اگر کوئی مقابلہ پر کچھ نشان دکھلانے کا دعویٰ نہ کرے تو ایسا پنڈت یا پادری صرف اخبار کے ذریعہ سے یہ شائع کر دے کہ میں صرف یک طرفہ کوئی امرخارق عادت دیکھنے کو تیار ہوں۔اور اگر امر خارقِ عادت ظاہر ہو جائے اور میں اس کا مقابلہ نہ کر سکوں تو فی الفور اسلام قبول کروںگا تو یہ تجویز بھی مجھے منظور ہے۔کوئی مسلمانوں میں سے ہمت کرے اور جس شخص کو کافر بے دین کہتے ہیں اور دجّال نام رکھتے ہیں بمقابل کسی پادری کے اس کا امتحان کر لیں اور آپ صرف تماشا دیکھیں۔(۵) پانچویں علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ میں ان مسلمانوں پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں۔ان کے ملہموں کو چاہئے کہ میرے مقابل پر آویں پھر اگر تائید الٰہی میں اور فیض سماوی میں اورآسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب ہو جائیں تو جس کا رَد سے چاہیں مجھ کو ذبح کر دیں مجھے منظور ہے۔اور اگر مقابلہ کی طاقت نہ ہوتو کفر کے فتوے دینے والے جو الہاماً میرے مخاطب ہیں یعنی جن کو مخاطب ہونے کے لئے الہام الٰہی مجھ کو ہو گیاہے، پہلے لکھ دیں اورشائع کرا دیں کہ اگر کوئی خارقِ عادت امر دیکھیں تو بِلا چون و چرا دعویٰ کو منظور کر لیں۔میں اس کام کے لئے بھی حاضرہوں اورمیرا خدا وند کریم میرے ساتھ ہے لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ میں ایسا مقابلہ صرف ائمۃُ الکفر سے کروں۔انہیں سے مباہلہ کروں اور انہیں سے اگر وہ چاہیں یہ مقابلہ کروں۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ہر گز مقابلہ نہیں کریں گے کیونکہ حقانیت کے ان کے دلوں پر رُعب ہیں اور وہ اپنے ظلم اور زیادتی کو خوب جانتے ہیں۔وہ ہر گز مباہلہ بھی نہیں کریں گے مگر میری طرف سے عنقریب کتاب دافع الوساوس میں ان کے نام اشتہار جاری ہو جائیں گے۔