مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 95

مکتوب نمبر۶۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی۔اخویم مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس بیمار کے لئے آنمکرم کو تکلیف دینی چاہی تھی وہ بقضائے الٰہی کل ۱۲؍ ربیع الاوّل روز دوشنبہ کو گزر گئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔میر عباس علی صاحب جو ایک پُرانے مخلص ہیں۔نہایت التجا اور تاکید سے لکھتے ہیں کہ میرا لڑکا مڈل تک پڑھا ہوا ہے۔انگریزی میں گزارہ کے موافق تحریر کر سکتا ہے۔حساب وغیرہ جانتا ہے۔منشی محمد سراج الدین صاحب جو افسر ڈاکخانہ جات ریاست جموں ہیں، آپ کی سفارش سے توجہ فرما کر اس کو اپنے سلسلہ میں کہیں نوکر رکھ لیں۔اس لئے آپ کی خدمت میں سفارش کرتا ہوں کہ آپ خاص اپنی طرف سے اور نیز اس عاجز کی طرف سے سفارش تحریر فرما ویں۔اور جس وقت وہ بلاویں اس لڑکے کو روانہ کر دیا جاوے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۲۸؍ اکتوبر ۱۸۹۰ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۶۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی۔اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مولوی خدا بخش حامل ہذا جو مجھ سے تعلق بیعت رکھتے ہیں۔بہت نیک سرشت اور صاف باطن اور محب صادق ہیں۔مجھے ان کی تکالیف معلوم ہوگئی ہیں وہ شاید تیس آدمیوں سے زیادہ کے قرضدار ہیں اور نہایت تلخی میں ان کا زمانہ گزرتا ہے۔وطن میں جانا ان کا ترک ہو گیا ہے اور میں نے دریافت کیا ہے کہ یہ سب تکالیف محض دینی ہمدردی کی وجہ سے جس میں آج تک وہ مشغول ہیں ان کو