مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 94
نہیں مگر خوش الحان واعظ ہے۔اس نے سنا ہے کہ بٹالہ میں بڑی بدزبانی شروع کی ہے۔مولوی محمد حسین بدزبانی نہیں کرتے مگر کہے جاتے ہیں اور تعجب یہ کہ بعض لوگ کافر کہتے ہیں۔وہ اپنے خط میں السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہٗ بھی لکھ دیتے ہیں حالانکہ کفار کو ایسے لفظ لکھنے نہیں چاہئے۔سنا گیا ہے کہ مولوی محمود علی شاہ صاحب جو محمد علی کی طرح واعظ ہیں۔لودہانہ میں پانچ سال کی قید ہوگئے ہیں۔یہ عاجز ہفتہ عشرہ تک لودہانہ میں جانے والا ہے۔والسلام ۱۵؍ جولائی ۱۸۹۰ء خاکسار غلام احمد نوٹ: اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دعویٰ کی ابتدا میں مخالفت کی آگ کس طرح پھیلنی شروع ہوئی ہے اور حضرت کو اتمام حجت کا کس قدر جوش اور خیال تھا کہ خود مولوی محمد حسین صاحب کے گھر جانے کو تیار تھے اور اس کے شکوک اور اعتراضات کے رفع کرنے کیلئے آمادہ۔غزنویوں، لکھوکے والوں کی مخالفت نے آپ کو کسی تعجب میں نہیں ڈالا بلکہ آپ نے اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی امر عظیم کا پیش خیمہ سمجھا ہے اور یہی یقین آپ کو تھا۔چنانچہ اس کے بعد تائیداتِ سماوی اور ربّانی نصرت کے جو نظارے نظر آتے ہیں وہ ایک مومن کے ایمان کو بڑھانے والے ہیں اور حضرت حجۃ اللہ کی صداقت پر آسمانی اور ربّانی شہادت ہیں۔ان الہامیوں کی ناکامی اور ان کے شیطانی وساوس کو خدا تعالیٰ نے پاش پاش کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جواشاعت اسلام اور عزت حضرت خیرالانام کیلئے اپنے دل میں جاںنثاری کا جوش رکھتی ہے۔ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔(عرفانی)