مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 96

پہنچ رہی ہیں اور کوئی ان کے حال کا پرساں نہیں۔لہٰذا آں مخدوم کو محض اس وجہ سے کہ آپ ہمدرد خلائق ہیں اور لِلّٰہی امور میں پورا جوش رکھتے ہیں، تکلیف دیتا ہوں کہ اس بے چارہ بے سروسامان کے لئے کچھ بندوبست فرمائیے۔اگر چندہ ہو تو میں بھی اس میں شامل ہونے کو تیار ہوں بلکہ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ کی تحریک اور انتظام سے اور آپ کی پوری اور کامل توجہ سے چندہ کے لئے احسن تدبیر کی جاوے اور میں اسی خط میں اپنے تمام مخلصوں کی خدمت میں محض للہ اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب حتی الوسع اپنے اس چندہ میں شریک ہو۔سب کے ایک ایک لقمہ دینے سے ایک کی غذا نکل آئے گی اور کسی کو تکلیف نہ ہوگی۔میں نے سنا ہے کہ فری میسن کا گروہ اپنے ہم تعلقوں کے ساتھ قرضہ وغیرہ کے امور میں بہت ہمدردی کرتا ہے۔پس کیا مسلمانوں کا یہ پاک گروہ فری میسن کے پُر بدعت اور ملحد گروہ سے ہمدردی میں کم ہونا چاہئے؟ والسلام ۱۴؍ دسمبر ۱۸۹۰ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ: مولوی خدا بخش صاحب جالندھری نہایت مخلص آدمی تھے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہادت ہے۔انہوں نے ۱۸۸۹ء میں ہی بیعت کی تھی اور کبھی کوئی ابتلا ان پر نہیں آیا۔وہ اشاعت اسلام کے لئے بڑا جوش رکھتے تھے۔ہمارے مکرم اور مخلص بھائی سردار مہر سنگھ حال ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے، ان کی ابتدائی تربیت اسلام مولوی صاحب ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔وہ اس تلاش میں رہتے تھے کہ کسی غیر مسلم کو داخل اسلام کریں اور اس کیلئے وہ کسی قسم کی محنت، تکلیف اور خرچ سے کبھی مضائقہ نہ فرماتے تھے۔اسی قسم کی دینی خدمات کی وجہ سے وہ زیر بار ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس ہمدردی کا اظہار اور عملی اعانت کا ثبوت اس خط میں دیا ہے وہ ظاہر ہے۔مولوی صاحب کا قد میانہ تھا اور رنگ سیاہ تھا۔بہت سادہ زندگی تھی۔عمر ۶۰ سال کے قریب تھی۔(عرفانی)