مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 93
مکتوب نمبر۵۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔خدا تعالیٰ آپ کے گھر کے آدمیوںکو شفاء کُلّی عنایت فرماوے۔بہت تردّد و تفکر پیدا ہوا۔۔۱؎ مولوی غلام علی صاحب کی نسبت بھی دل غم اور تردّد سے بھرا ہوا ہے۔سب کے لئے دعا کرتا ہوں۔میں نے سنا ہے کہ انگلستان میں ایک انگریز ڈاکٹر نے مسلولوں کے لئے اشتہار دیا ہے اور کوئی نسخہ جو اس مرض کیلئے مفید ہو تجربہ میں آ گیا ہے۔معلوم نہیں کہ یہ خبر کہاں تک صحیح ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے پختہ ارادہ مخالفانہ تحریر کا کر لیا ہے اور اس عاجز کے ہونے کی نسبت زبانی طور پر اشاعت کر رہے ہیں۔مرزا خدا بخش صاحب جو محمد علی خان صاحب کے ساتھ آئے ہیں، ذکر کرتے ہیں کہ میں نے بھی ان کی زبانی کا لفظ سنا ہے۔کل بمشورہ مرزا خدا بخش و محمد علی خان صاحب ان کی طرف خط لکھا گیا ہے کہ پہلے ملاقات کرکے اپنے شکوک پیش کرو۔معلوم نہیں کیا جواب لکھیں۔میں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اگر آپ نہ آسکیں تو میں خود آ سکتا ہوں۔مگر ان کے اس فقرہ سے سب کو تعجب آیا کہ میں عقلی طور پر مسیح کا آسمان سے اُترنا ثابت کر دوںگا۔غرض ان کی طبیعت عجیب جوش میں ہے اور ایک قسم کا ابتلاء ہے جو انہیں پیش آ گیا ہے۔غزنوی صاحبوں کا جوش اس قدر ہے کہ ناگفتہ بہ۔ایک صاحب محی الدین نام لکھوکے میں ہیں، انہوں نے اس بارے میں اپنے الہامات لکھے ہیں اور ۲؎ کا نمونہ دکھایا ہے۔درحقیقت ان الہامیوں نے اپنی پردہ دری کی ہے اور ان کی یعنی محی الدین اور عبدالحق کے الہامات کا یہی خلاصہ ہے کہ یہ شخص ہے، جہنمی ہے اور میں نے سنا ہے کہ ان لوگوں نے کچھ دبی زبان سے کافر کہنا شروع کر دیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ ایک بڑے امر کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ایک شخص محمد علی نام شاید گوجرانوالہ کا رہنے والا ہے۔مولوی تو