مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 92
مکتوب نمبر۵۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت مولوی نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔طبیعت اس عاجز کی بفضلہ تعالیٰ اب کسی قدر صحت پر ہے۔گھر میں بھی طبیعت اصلاح پر آ گئی ہے۔محمود کو بخار آتا ہے۔میرا ارادہ تھا کہ اسی حالت میں آپ کے دوست کیلئے چند روزبجدّوجہد جیسا کہ شرط ہے، توجہ کروں مگر افسوس کہ بباعث آمد قاضی غلام مرتضیٰ کے میں مجبور ہو گیا۔وہ برابر دس روز تک اس جگہ رہیں گے۔چونکہ بہت حرج اُٹھا کر آئے ہیں اور دور سے خرچ کثیر کر کے آئے ہیں اس لئے بالکل نامناسب ہے کہ ان کی طرف توجہ نہ ہو۔پھر ان کے ساتھ ہی سیّد امیر علی شاہ صاحب لاہور سے آنے والے ہیں وہ برابر پندرہ روز تک رہیں گے۔ان کے جانے کے بعد انشاء اللہ القدیر، توجہ کامل کروں گا۔صرف ایک اندیشہ ہے کہ لدھیانہ میں ایک شخص نے محض نادانی سے ایک خون کے مقدمہ میں میری شہادت لکھا دی ہے کہ جو کمیشن کے سامنے ادا کی جائے گی۔شاید دو چار روز اس جگہ بھی لگ جاویں۔آپ کے دوست نے اگر بے صبری نہ کی جیسی کہ آج کل لوگوں کی عادت ہے تو محض للہ ان کے لئے توجہ کروں گا۔مشکل یہ ہے کہ انسان دنیا میں منعم ہو کر بہت نازک مزاج ہو جاتا ہے۔پھر ادنیٰ ادنیٰ انتظار میں نازک مزاجی دکھاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر احسان رکھنے لگتا ہے اور حسن ظن سے انتظار کرنے والے نیک حالت میں ہیں وَقَلِیْلٌ مِّنْھُمْ۔اس خط سے میری اصل غرض یہ ہے کہ میر عباس علی صاحب بیس دن سے آنمکرم کی دوا کی انتظار کر رہے ہیں۔کل سے بخار آتا ہے۔نہایت شکستہ خاطر ہیں۔کل رقعہ لکھ کر مجھے دیا تھا کہ دوا تو آتی نہیں، مجھے اجازت دیجئے تا میں لودہانہ میں چلا جاؤں۔مگر پھرمیں نے دو چار دن کیلئے ٹھہرا لیا ہے۔آپ براہِ مہربانی ضرور بمجرد پہنچنے اس خط کے کوئی عمدہ دوا نفث الدم کی ارسال فرماویں اور اس شخص پر میرے عذرات معقولی طور پر منکشف کر دیں۔والسلام ۲۵؍ جنوری ۱۸۹۰ء خاکسار غلام احمد