مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 629 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 629

خ مکتوب نمبر۵۹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔اللہ شانہٗ آپ کے گھر کے لوگوں کو اور آپ کو صبر بخشے۔دنیا مقام مصائب و شدائد ہے۔ایک حدیث صحیح میں ہے کہ جس پر کوئی بھی مصیبت نازل نہیں ہوئی اِس کا نجات پانا بہت مشکل ہے اگرچہ پیغمبر زادہ ہو۔اور ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب مصیبت زدوں کو اجر دیئے جاویں گے تو لوگ حسرت کریں گے کہ کاش ہمارے بدن دنیا میں مقراضوں سے کاٹے جاتے تا ہم آج اُس کا اجر پاتے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس مومن کے دل پر کسی سخت موت کا داغ ہو اور اُس نے صبر کیا ہو تو خدا تعالیٰ اسے دو اجر دے گا ایک دنیا میں، ایک آخرت میں۔غرض مومن کو مصائب سے چارہ نہیں ہے خدا تعالیٰ جس مومن سے پیار کرتا ہے اُس کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اور حدیث صحیح میں آیا ہے کہ فرزند متوفی فَرَطہے یعنی پیش خیمہ ہے اور اپنے والدین کے لئے بہشت میں جا کر سامان تیار کرتا ہے سو اللہ تعالیٰ صبر بخشے تا اُس کا ثواب مترتب ہووے۔مصیبت پر از حد بے صبری کرنا کوتہ نظری ہے۔دنیا کا معاملہ خود چند روزہ ہے۔قضاو قدر کی لڑائی گرم ہے ہر ایک کے سر پر تقدیر کھڑی ہے۔پھر کیوں ثواب کو ضائع کیا جاوے۔٭ (۳؍ مئی ۱۸۸۶ء)