مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 629
مکتوبات احمد ۶۲۹ جلد اول مکتوب نمبر ۵۹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ اللہ جل شانہ آپ کے گھر کے لوگوں کو اور آپ کو صبر بخشے ۔ دنیا مقام مصائب و شدائد ہے ۔ ایک حدیث صحیح میں ہے کہ جس پر کوئی بھی مصیبت نازل نہیں ہوئی اس کا نجات پانا بہت مشکل ہے اگر چہ پیغمبر زادہ ہو۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب مصیبت زدوں کو اجر دیئے جاویں گے تو لوگ حسرت کریں گے کہ کاش ہمارے بدن دنیا میں مقراضوں سے کاٹے جاتے تا ہم آج اُس کا اجر پاتے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس مومن کے دل پر کسی سخت موت کا داغ ہو اور اُس نے صبر کیا ہو تو خدا تعالیٰ اسے دو اجر دے گا ایک دنیا میں ، ایک آخرت میں ۔ غرض مومن کو مصائب سے چارہ نہیں ہے خدا تعالیٰ جس مومن سے پیار کرتا ہے اُس کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اور حدیث صحیح میں آیا ہے کہ فرزند متوفی فرط ہے یعنی پیش خیمہ ہے اور اپنے والدین کے لئے بہشت میں جا کر سامان تیار کرتا ہے سو اللہ تعالیٰ صبر بخشے تا اُس کا ثواب مترتب ہو دے ۔ مصیبت پر از حد بے صبری کرنا کو تہ نظری ہے ۔ دنیا کا معاملہ خود چند روزہ ہے۔ قضا و قدر کی لڑائی گرم ہے ہر ایک کے سر پر تقدیر کھڑی ہے۔ پھر کیوں ثواب کو ضائع کیا جاوے۔ (۳ رمئی ۱۸۸۶ء) حي الحكم ۱۰ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۲