مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 628
تضرع سے استقامت و مشکل کشائی چاہتے ہیں اور حضرت ارحم الراحمین عزّاسمہٗ و قادر کریم و رحیم ہے۔جب بندہ عاجز اپنے کرب اور قلق کے وقت میں ہر یک طرف سے قطع امید کر کے اُس کے دروازہ پر گرتا ہے اور پورے پورے رجوع سے دعا کرتا ہے اور دعا کرنے سے تھکتا نہیں تو خدا تعالیٰ اُس پر رحم فرماتا ہے اور اس کو مخلصی بخشتا ہے۔تب اُس کو دو لذتیںملتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اپنے کرب و قلق سے نجات پاتا ہے۔دوسرے یہ کہ دعا کے قبول ہونے میں جو ایک لذت ہے۔اس سے بھی وہ متمتع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے جب بندہ یقین کامل (سے) اپنے دردوں اور تکلیفوں کے وقت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو ضرور وہ اُس کی سنتا ہے۔اس عاجز کو اس بات سے افسوس ہے کہ آپ کے چند خطوط جو علوم دین کے استفسار میں تھے۔ان کا جواب مجھ سے نہیں لکھا گیا اور اب ضعف دماغ و درد سر کا یہ حال ہے کہ جو کچھ کھایا جاتا ہے۔اُس کی تبخیر ہو کر درد شروع ہو جاتا ہے۔اس بات کی ابھی تسلی نہیں کہ عمر کا کیا حال ہے۔بعض عوارض لاحقہ میں اندیشہ موت کا پیدا ہو جاتا ہے۔کام کتاب کا ہنوز شروع نہیں کیا گیا۔اگر خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ کتاب پوری ہو جائے گی۔۲۴؍جون۱۸۸۵ء مطابق ۱۰ رمضان ۱۳۰۲ھ خمکتوب نمبر۵۸ میر عباس علی کے نام بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خبر واقعہ وفات لختِ جگر آں مخدوم سے حزن و اندوہ ہوا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مومن کو اس بے ثبات گھر اور ناپائیدار جگہ میں ابتلا سے چارہ نہیں۔یہی عادت اللہ انبیاء و رسُل اور صدیقوں کے ساتھ جاری ہے جس کو اس دنیا میں رنج نہیں پہنچتا۔اس کا قدرو منزلت جنابِ الٰہی میں کچھ نہیں۔(۵؍ اپریل ۱۸۸۶ء)٭