مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 630
میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے بعد کے حالات یہ مجموعہ مکتوبات احمدیہ کی پہلی جلد ہے اور یہاں ختم ہوتی ہے لیکن میں اس کو ناتمام سمجھوں گا اگر میر عباس علی شاہ صاحب کے بعد کے واقعات اور حالات کا یہاں ذکر نہ کروں۔(عرفانی) میر عباس علی شاہ صاحب لودہانہ کے رہنے والے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں ایک مخلص مددگار تھے۔مسیح موعود کے دعویٰ کے وقت اُنہیں ابتلا آیا اور اسی ابتلاء میں اُن کا خاتمہ ہوا۔اُنہوں نے اپنی مخالفت کا اظہار بذریعہ اشتہار بھی کیا اور حضرت حجۃ اللہ نے نہایت رفق وملائمت سے اُن کو جواب بھی دیا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ارادہ کر لیا تھا اُن کا خاتمہ انکار پر ہوا۔اس معاملہ میں مَیں زیادہ کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا۔ہاں ناظرین کو اسی مجموعہ مکتوبات کے مکتوب نمبر۳۴ اور ۴۰ پر خصوصیت سے توجہ کرنے کی صلاح دیتا ہوں۔وہ ان مکتوبات کو پڑھیں گے تو اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت حجۃ اللہ نے پہلے سے پیشگوئی کی تھی۔بہرحال میں حضرت اقدس علیہ السلام کی اس کے بعد کی تحریریں عباس علی شاہ کے متعلق یہاں درج کر دیتا ہوں اور اس کے بعد اور کوئی تحریر ملی یا مکتوبات ملے۔جو میر عباس علی ہی کے نام ہوں وہ بطور تتمہ اس جلد کے چھاپ دیئے جاویں گے (بہرحال وہ تحریریں یہ ہیں) ’’(۹) حبی فی اللہ میر عباس علی لودہانوی۔یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں۔جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرار اخیار کی سنّت پر بقدم تجرید محض للہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے۔وہ یہی بزرگ ہیں۔میں اس بات کو کبھی بھول نہیں سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ اُنہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور اُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا۔ ۱؎