مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 559 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 559

مکتوب نمبر۲۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذامحبت نامہ آںمخدوم پہنچا۔موجب شکر و سپاس ہوا۔خداوند کریم مقدرات مکروہہ سے آپ کو امن میں رکھے اور آپ کی سعیوں اور کوششوں میں کہ جو آپ خالصاً للہ کر رہے ہیں بہت سی برکتیں بخشے اور بہت سے اجر اُس پر مترتب کرے۔آمین۔صفحہ۲۴ فتوح الغیب کی نسبت جو آںمخدوم نے دریافت فرمایا ہے یہ مقام بَین المعنی ہے، کوئی عمیق حقیقت نہیں جو کچھ شارح نے لکھا ہے وہ صحیح اور درست ہے۔حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی تب محقق ہوتی ہے اور تبھی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف الٰہیہ ہو جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے۔اوّل انقطاع خلق اللہ سے اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکمِ الٰہی کو جو قضا و قدر ہے۔تمام مخلوقات پر نافذ سمجھے اور ہر ایک بندہ کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر کہنا چاہتا ہے کہ ایسا یقین کہ فی الحقیقت تمام مخلوقات کو کالعدم خیال کرے اور ہر یک حکم خدا کے ہاتھ میں دیکھے اور ہر یک نفع اور ضرر اُسی کی طرف سے سمجھے صرف اپنے ہی تکلّف اور تصنع سے حاصل نہیں ہوسکتا اور اگر تکلّف سے کسی قدر خیال قائم بھی ہو تو وہ بے بقا ہے۔اور ادنیٰ ابتلا سے لغزش پیش آ جاتی ہے بلکہ یہ مقام عالی شان اس بصیرتِ کاملہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جو خاص خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔بات صرف اتنی ہے کہ جب عنایاتِ الٰہیہ کسی کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کے لمبے قصہ کو آپ ہی کوتاہ کر دیتی ہیں اور وہ بوجھ جو اس سے اُٹھائے نہیں جاتے دستِ غیبی ان کو آپ اُٹھا لیتا ہے۔پس اسی طرح سے جب بذریعہ علوم لدنیہ و کشوف صادقہ و الہامات صحیحہ و تائیدات صریحہ انسان پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ تمام نفع و ضرر خدا کے اختیار میں ہے اور مخلوق کچھ چیز ہی نہیں تو ایک نہایت کامل یقین سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ جو کچھ نفع یا نقصان اور عزت یا ذلّت ہے سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور مخلوق کو مُردہ کی طرح دیکھتا ہے لیکن اس جگہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت مخدومنا