مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 560

شیخ عبدالقادر قدس سرّہٗ نے علوم و معارفِ الٰہیہ کے حاصل ہونے کا ذریعہ فنا عن الخلق وغیرہ اقسام فنا کو ٹھہرایا ہے۔پس جب کہ فنا کا حاصل ہونا ان علوم کے حاصل ہونے پر موقوف ہے تو اس سے دَوْر لازم آتا ہے۔سو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ علوم لدنیہ و کشوف صادقہ و تائیداتِ خاصہ الٰہیہ وتوجہات جلیلہ صمدیہ غیر فانی کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہو سکتے لیکن بتوسط صحبت شیخ فانی حاصل ہو سکتے ہیں۔یعنی اگرچہ براہ راست نہیں لیکن سالک اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیداتِ سماویہ کو معائنہ و مشاہدہ کرتا ہے۔پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کے کمالیت کا موجب ہو جاتا ہے۔اگر جلدی نہیں تو ایک زمانۂ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک و شبہات کی تاریکی دل پر سے اُٹھ جاتی ہے۔اسی جہت سے فانیوں کی صحبت کے لئے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے  ۱؎ اَیْ کُوْنُوْا مَعَ الفانین وَالصَّادِقُوْنَ ھُمْ اَلْفَانُوْنَ لَاغَیْرُھُمْ اور جو شخص نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اُس کو کچھ تعلق اور محبت ہے۔وہ محض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔اِلَّا اَنْ یَتَدَارَکَہُ اللّٰہُ بِرَحْمَتِہٖ۔دوسری شرط مورد معارفِ الٰہیہ ہونے کیلئے یہ ہے کہ ہوائے نفس سے انقطاع ہو جائے۔یعنی سالک پر لازم ہے کہ اپنے تمام حرکت و سکون و قول و فعل اور امر اور نواہی میں اللہ تعالیٰ کی متابعت اختیار کرے اور کسی حالت میں قَالَ اللّٰہُ وَقَالَ الرَّسُوْلُسے باہر نہ جائے اور جوکچھ دوسرے لوگ اپنے نفس کی متابعت سے کرتے ہیں۔وہ اپنے رسول کی متابعت سے بجالاوے اور اپنے اعمال اور اقوال میں کوئی ایسی جگہ خالی نہ چھوڑے جس میں نفس کو کچھ دخل دینے کی گنجائش ہو۔پس جب کہ کامل طور پر اتباعِ سنت میسر آ جائے گا اور ایک ذرّہ ہوائے نفس کی پیروی نہیں رہے گی بلکہ ظاہر و باطن متابعت رسول کریم سے منور ہو جائے گا۔تو یہ وہ حالت ہے جس کا نام فنا بامر اللہ ہے۔مگر ہائے افسوس کہ اس پُر ظلمت زمانہ میں بجائے اس کے (کہ) کبریت احمر کا قدر کریں، اکثروں کو اس طریق سے بغض ہے اور اتباعِ سنت سے ایک چِڑ ہے۔حالانکہ دوسری قسم فنا کی بجز اس کے ہرگز میسر نہیں ہو سکتی۔اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْ عَلَیْنَابَرَکَاتِ مُحَمَّدٍ وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔۱؎ التَّوبۃ: ۱۱۹