مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 542
غلطیاں ہیں اور ہم نے اوّل سے آخر تک اُپنشدیں غور سے پڑھی ہیں اور اُن کے ذلیل اور غلط خیالات پر بفضل خداوند ہادی مطلق اطلاع پائی ہے لیکن ہم کو ان کتابوں کی تفتیش سے کچھ بھی غرض نہیں۔جس حالت میں خود ہندوؤں کے محققین اُن اُپنشدوں کو برہمن پشتک جانتے ہیں تو پھر ہم کوکیا ضرور ہے کہ ان میں کچھ زیادہ طول کلام کریں۔رہا وید سو ان میں جس قدر مخلوق پرستی ہے اُس کو تمام جاننے والے جانتے ہیں۔پہلا وید اگنی کی ہی تعریف سے شروع ہوتا ہے۔چنانچہ ستاتیس منتر تو اُس کی تعریف میں لکھے گئے ہیں اور پینتالیس منتر اندر کے مہابرنن میں ہیں۔ایسا ہی ہوا اور پانی اور چاند اور سورج وغیرہ کی تعریف میں کئی منتر وید میں مندرج ہیں اور اگر منشی صاحب بطور نمونہ چاہیں تو ہم رگوید سنگتہا اشٹک اوّل پہلا ادہیائے اشلوک ایک میں سے چند شرتیاں لکھ دیتے ہیں تا منشی صاحب اپنے اُس کلمہ کو پھر یاد کریں کہ جو اُنہوں نے قرآن شریف کی عظمتوں اور بزرگیوں اور ہمارے ربّ کریم کے پاک اور کامل کلام کی شوکتوں اور شانوں کو یکبارگی نظر انداز کرکے جلد تر منہ سے نکال دیا اور کہا کہ وید میں بیان توحید ایسا ہے کہ اور کتابوں میں نہیں ہے اور میں قبل از بیان یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ سخت ابتلا منشی صاحب کو ایسی عادت کی وجہ سے پیش آ گیا ہے کہ جو اپنے خط میں آپ لکھتے ہیں کہ میں مذہبی جھگڑوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔گویا منشی صاحب اس کام کو بنظر تحقیر دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ سارا قرآن شریف مذہبی جھگڑوں کے ہی ذکر میں ہے اور جو لوگ خدا کے بڑے پیارے ٹھہرے اُنہوں نے اُنہیں جھگڑوں میں جانیں دی تھیں۔جب تک طالب حق ان جھگڑوں میں نہ پڑے دل کا صاف ہونا ہرگز ممکن نہیں۔علم عقائد اور علم فقہ اور علم تفسیر اور علم حدیث مذہبی جھگڑے ہیں جو شخص مذہبی جھگڑوں میں سے نفرت کر کے علم قرآن حاصل نہیں کرتا اور حق اور باطل میں تمیز کرنے کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا وہ بڑی خطرناک حالت میں ہے اور اُس کے سُوء خاتمہ کا سخت اندیشہ ہے۔اب وہ شرتیاں جن کاو عدہ کیا گیا تھا یہ ہیں۔(۱) میں اگنی دیوتا کی، جو ہوم کا بڑا گروکارکن اور دیوتاؤں کو نذریں پہنچانے والا اور بڑا ثروت والا ہے، مہما کرتا ہوں۔اب اس جگہ اگنی کو ایک ایسا دیوتا مقرر کیا کہ جو بطور وکیل کے دوسرے دیوتاؤں کو نذریں پہنچاتا ہے۔