مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 543

(۲) ایسا ہو کہ اگنی جس کا مہما زمانہ قدیم اور زمانہ حال کے رشی کرتے چلے آئے ہیں۔دیوتاؤں کو اس طرف متوجہ کرے۔اس میں بھی آگ کو وکیل ٹھہرا کر اُس سے یہ چاہا ہے کہ وہ دیوتاؤں کو بھی ہندوؤں پر مہربان کرے۔(۳) اے اگنی! دیوتاؤں کو یہاں لا۔اُن کو تین جگہ بٹھا آراستہ کر۔اب دیکھئے! ان شرتیوں میں کچھ خدا تعالیٰ کا بھی پتہ لگتا ہے اور پھر اُن کے بعد اِندر کی بھی مہما لکھی ہے اور ایک شرتی میں اِندر کو کوشیکا کا بیٹا ٹھہرایا ہے اور کوشیکا گزشتہ زمانہ میں ایک رشی تھا۔شارح اس کے یہ معنی لکھتا ہے کہ کوشیکا رشی کے گھر میں اولاد نہیں ہوتی تھی۔تب اُس نے اِندر دیوتا کی اشنٹ شروع کی اور بہت تپ جپ کیا اور چونکہ کوشیکا کے گھر میں بیٹا ہونا مقدر نہیں تھا مگر اِندر کو اُس پر رحم آیا۔تب اِندر آپ ہی اُس کی عورت کے رحم میں جا پڑا اور تولد پا کر اُس کا بیٹا بن گیا۔تب سے اِندر کا، کوشیکا کا بیٹا، نام رکھا گیا۔اب مناسب ہے کہ منشی صاحب، عبدالمعبود صاحب سے جو اُن کے زعم میں وید کے عالم ہیں۔ان شرتیوں کے معنی پوچھیںکہ کیونکر ایک خدا کئی دیوتاؤں پر منقسم ہو گیا اور آگ و ہوا، پانی، سورج، چاند کا جسم پکڑا اور کیونکر وہ کوشیکا کے گھر میں پیدا ہوا۔کیا یہ ایسا امر ہے جو چھپ سکتا ہے۔پنڈت دیانند نے ناخنوں تک زور لگایا کہ وید میں توحید ثابت کرے۔مگر آخر ناکام رہا۔شاید ۱۸۷۶ء کا ذکر ہے کہ پنڈت دیانند نے کچھ اجزا وید بھاش کے تیار کر کے گورنمنٹ میں مع اپنے عریضہ کے بھیجے اور یہ درخواست کی کہ اُس کا یہ بھاش جس میں جا بجا سودائیوں کی طرح دیوتاپرستی کی دو ر از کار تاویلیں لکھی ہیں اور خواہ نخواہ وید کو مُعَلِّمُ التَّوحِید قرار دینا چاہا ہے۔یونیورسٹی میں پڑھایا جائے۔گورنمنٹ نے بعض نامی گرامی پنڈتوں سے کیفیت طلب کی کہ آیا وید میں مخلوق پرستی ہے یا نہیں۔تو اُن سب نے بالاتفاق یہ کیفیت لکھی کہ وید میں دیوتا پرستی کی تعلیم ضرور ہے اور دیانند جو کچھ تاویلیں کرتا ہے یہ صحیح نہیں ہیں۔اُن دنوں میں یہ تذکرہ اخبار وکیل شہر امرتسر میں بھی چھپ گیا تھا اور پھر اس عاجز نے بھی پنڈت دیانند کو لکھا کہ وید کی مخلوق پرستی کی تعلیم میں اگر کچھ عذر ہے تو کسی جگہ یہ ثابت کر کے دکھلاویں کہ وید میں آگ اور پانی اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کی پرستش سے کسی جگہ ممانعت بھی لکھی ہے اور کسی جگہ یہ بھی بیان کیا ہے کہ