مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 541

جاتی ہیں اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ لفظ اُوم کہ جو پہلے زمانہ کے مذہب ہنود کی نشانی ہے اُس کا وید میں بالکل ذکر نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ان تینوں دیوتاؤں کے نام کا خلاصہ ہے۔یعنی برہما کے اخیر کا الف لیا گیا اور وشن کی واؤ لی گئی اور مہادیو کا میم لیا گیا۔ان تینوں کے جوڑ سے اُوم بن گیا اور تمام پنڈتوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ اُوم کا لفظ برہما، وشن، مہادیو کے نام سے ایک ایک حرف لے کر بنایا گیا ہے اور پنڈت دیانند کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ اُوم کا لفظ ترہمورتی مذہب کا ایجاد ہے۔مگر ترہمورتی مذہب یعنی جس میں تین مورتوں کی پرستش کا ذکر ہے وید میں نہیں ہے کیونکہ یوں تو وید میں بیسیوں دیوتاؤں کی پرستش کا ذکر ہے لیکن برہما، وشن، مہادیو کا کہیں نشان نہیں۔ہاں وشن کی پرستش کے لئے ایک شُرتی آئی ہے مگر وہاں وشن کے معنی سورج ہیں۔سورج وید کے دیوتاؤں میں سے ایک اوسط درجہ کا دیوتا ہے جس کا مرتبہ اگنی دیوتا سے کچھ نیچا اور بعض دوسرے دیوتاؤںسے کچھ اونچا ہے۔اب دیکھئے منشی صاحب اپنے خط میں فرماتے ہیں کہ ہندوؤں میں وجودِ حق کے لئے اُوم کا لفظ جو اسم ذات ہے قرار دیا گیا ہے۔کیاافسوس کا مقام ہے کہ منشی صاحب نے ایک ناواقف آدمی کی تحریر فضول پر اعتماد کلی کر کے اُوم کے لفظ کو اسم ذات مقرر کر دیا۔حالانکہ ابھی ہم ظاہر کر چکے۔کہ اُوم کا لفظ ان متأخر مشرکین ہنود کا ایجاد ہے جنہوں نے برہما، وشن، مہادیو کی صورتوں کی پرستش اختیار کی تھی اور اب کرتے ہیں۔ان کے دانشمند پنڈتوں میں سے کوئی بھی اس بات سے ناواقف نہیں کہ اُوم کا لفظ اسی ترہمورتی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختراع کیا گیا ہے۔خدا سے اور خدا کی ذات سے اس کو کچھ علاقہ نہیں۔بھلا اگر منشی صاحب کے نزدیک یہ اسم ذات ہی ہے تو پھر کئی پنڈت جیسے دیانند۱؎، کھڑک سنگھ،۲؎ پنڈت شاستری صاحب وغیرہ جو اب تک جیتے جاگتے موجود ہیں۔اُن کی شہادت اپنے بیان پر پیش کریں۔واضح رہے کہ ہندوؤں میں دو قسم کے مخلوق پرست ہیں۔ایک تو وہ جو صرف وید کے دیوتاؤں کو مانتے ہیں اور یہ فرقہ بہت کم پایا جاتا ہے اور دوسرے وہ گروہ جنہوں نے ترہمورتی کا مذہب ہزاروں برس کے بعد وید کے نکالا ہے۔وہ برہما، وشن، مہادیو کو مانتے ہیں اور اُوم کے لفظ کو بڑا مقدس سمجھتے ہیں۔کیونکہ وہ ان کے دیوتاؤں کے ناموں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔بہرحال ہماری بحث صرف وید سے متعلق ہے اور ہر چند ہم جانتے ہیں کہ اُپنشدوں میں بہت سی ۱؎ مرگئے ۲؎ عیسائی ہوگئے تھے