مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 526

مکتوب نمبر۱۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے عنایت نامہ جات کو پڑھ کر نہایت خوشی ہوئی۔خداوند تعالیٰ حقیقی استقامت سے حظِ وافر آپ کو بخشے۔میں آپ کی ذات میں بہت ہی نیک طینتی اور سلامت رَوِشی پاتا ہوں اور میں خداوندکریم کی نعمتوں میں سے اس نعمت کا بھی شکرگزار ہوں کہ آپ جیسے خالص دوست سے رابطہ پیدا ہوا ہے۔خداوندکریم اس رابطہ کو اُس مرتبہ پر پہنچا وے جس مرتبہ پر وہ راضی ہے۔نماز تہجد اور اَوْرَادِ معمولہ میں آپ مشغول رہیں۔تہجد میں بہت سے برکات ہیں۔بیکاری کچھ چیز نہیں۔بیکار اور آرام پسند کچھ وزن نہیں رکھتا۔وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔’’‘‘۔۱؎ درود شریف وہی بہتر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہے اور وہ یہ ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔جو الفاظ ایک پرہیز گار کے منہ سے نکلتے ہیں۔اُن میں ضرور کسی قدر برکت ہوتی ہے۔پس خیال کر لینا چاہئے کہ جو پرہیز گاروں کا سردار اور نبیوں کا سپہ سالار ہے اُس کے منہ سے جو لفظ نکلے ہیں وہ کس قدر متبرک ہوں گے۔غرض سب اقسام درود شریف سے یہی درود شریف زیادہ مبارک ہے۔یہی اس عاجز کا وِردہے اور کسی تعداد کی پابندی ضرور نہیں۔اخلاص اور محبت اور حضور اور تضرع سے پڑھنا چاہئے اور اُس وقت تک ضرور پڑھتے رہیں کہ جب تک ایک حالت ر ّقت اور بیخودی اور تاثر کی پیدا ہوجائے اور سینہ میں انشراح اور ذوق پایا جائے۔بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و دیگر اخوان مومنین سلام مسنون برسد۔۲۶؍ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۱۸؍ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ ۱؎ العنکبوت: ۷۰