مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 497
خمکتوب نمبر ۲۹ حضرت مسیح موعود ؑکا ایک تازہ خط بنام قاضی نذر حسین صاحب ایڈیٹر اخبار قلقل(بجنور۔روھیل کھنڈ) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی ایڈیٹر صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے پرچہ اخبار قلقل میں میرے دعوے کی نسبت جو مضمون شائع ہوا ہے، میں افسوس کرتا ہوں کہ اس کے جواب میں مجھے مفصل تحریر کی فرصت نہیں ہے۔میں چند ماہ سے بیمار ہوں اور ابھی بہت کمزور ہوں۔یہ سچ ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا ہے۔میں اپنی کتابوں میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُنیس سَو برس سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں اور کسی زمانہ میں واپس آ کر دنیا کی عدالت کریں گے بلکہ قرآن شریف تصریح سے فرماتا ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کا قول ہے اور اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول یا رویت موجود ہے کیونکہ آں جناب نے حضرت عیسیٰ کو معراج کی رات میں ان انبیاء میں دیکھا ہے جو اُن سے پہلے وفات پا چکے تھے اور پھر قرآن شریف میں سورہ نور میں فرماتا ہے کہ کل خلیفے اس اُمت کے اسی اُمت میں پیدا ہونگے۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتے اور وہ زندہ نہیں ہیں بلکہ مَر گئے ہیں اور ان کی آمد ثانی کا خیال سراسر باطل اور طمع خام ہے اور میری طرف سے یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ صدہا نشانوں سے جو خدا کی طرف سے ظہور میں آ چکے ہیں میری سچائی ثابت ہے۔اگر میں خدا کی گواہی کے بغیر دعویٰ کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں اور اگر خدا کے کلام سے حضرت عیسیٰ کا زندہ ہونا ثابت ہے تو میں جھوٹا ہوں اور اگر میں ضرورت کے وقت نہیں آیا تو میں جھوٹا ہوں۔لیکن یہ سب میری سچائی کی علامتیں ثابت ہو چکی ہیں۔اسلام ایک نہایت تنزّل کی حالت میں ہے۔کیا باعتبار ظاہر اور کیا باعتبار باطن۔اور