مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 498
خدا نہیں چاہتا کہ اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے۔اس لئے اس نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوبارہ اسلام میں زندگی کی روح پھونکے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اُن کی سچائی پر صدہا علامتیں ہوتی ہیں۔ان کی تعلیم ایک کامل بصیرت پر مبنی ہوتی ہے۔وہ اپنی طاقت عملی کی وجہ سے لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ان میں ایک خارق عادت کشش پائی جاتی ہے اس لئے ان کی قوت جاذبہ ہزار ہا سعیدوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔اور ان کے لئے خدا تعالیٰ آسمانی نشانوں کو ظاہر کرتا ہے تا ان کی سچائی پر گواہ ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے مبعوث ہونے کی علّت غائی کو پا لیتے ہیں اور نہیں مرتے جب تک ان کی بعثت کی غرض ظہور میں نہ آجائے۔پس اگرچہ پہلی چار علامتیں میرے دعوے کے متعلق ثابت ہو چکی ہیں۔لہٰذا میری تعلیم علی وجہ البصیرت ہے اور اسلام کا پاک اور خوبصورت چہرہ ظاہر کرتی ہے اور میری طاقت عملی میری استقامت سے ظاہر ہے کہ میں پچیس برس سے لعن طعن مخالفوں کا نشانہ ہو رہا ہوں۔میرے پر خون کے مقدمات بنائے گئے اور گورنمنٹ کو اُکسایا گیا اور کفر کا فتویٰ دیا گیا اور مجھے سخت ڈرایا گیا۔پھر وہ کون سی چیز تھی جس نے میری استقامت کو بحال رکھا۔کیا وہ خدا کے ساتھ پاک تعلق نہ تھا؟ اور جو مجھ میں قوتِ کشش وغیرہ بھیجی ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ جب میں نے خدا کی طرف دعوت شروع کی تو میں اکیلا تھا اور اب تین لاکھ سے زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے اور جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور کوئی مہینہ بغیر نشانوں کے نہیں گزرتا مگر باوجود ان تمام علامتوں کے طالبِ حق کے لئے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علّتِ غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی معہود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مَر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔٭ والسلام ٭ الحکم۲۴؍ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ۹ فقط غلام احمد