مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 32
مکتوب نمبر ۵ مکرمی جناب پنڈت صاحب آپ کا مہربانی نامہ عین اُس وقت میں پہنچا کہ جب میںبعض ضروری مقدمات کے لئے امرتسر کی طرف جانے کو تھا۔چونکہ اس وقت مجھے دو گھنٹہ کی بھی فرصت نہیں اس لئے آپ کا جواب واپس آ کر لکھوں گا اور انشاء اللہ تعالیٰ تین روز بغایت درجہ چار روز کے بعد واپس آ جاؤں گا اور پھر آتے ہی جواب لکھ کر خدمت گرامی میں ارسال کروں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ مضامین برادرہند میں درج ہونگے۔مگر میری صلاح یہ ہے کہ ان مضامین کے ساتھ دو ثالثوں کی رائے بھی ہو تب اندراج پاویں۔مگر اب مشکل یہ کہ ثالث کہاں سے لاویں ،ناچار یہی تجویز خوب ہے کہ آپ ایک فاضل نامی گرامی صاحب تالیف و تصنیف کا براہم سماج کے فضلاء میں سے منتخب کر کے اطلاع دیں جو ایک خدا ترس اور فروتن اور محقق اور بے نفس اور بے تعصب ہو اور ایک انگریز ،کہ جس کی قوم کی زیرکی بلکہ بے نظیری کے آپ قائل ہیں، انتخاب فرما کر اس سے بھی اطلاع بخشیں تو اغلب ہے کہ میں ان دونوں کو منظور کروں گا اور میں نے بطور سرسری سنا ہے کہ آپ کے برہمو سماج میں ایک صاحب کیشب چندر نام لئیق اور دانا آدمی ہیں۔اگر یہی سچ ہے تو وہی منظور ہیں۔اُن کے ساتھ ایک انگریز کر دیجئے۔مگر منصفوں کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ صرف اتناہی لکھیں کہ ہماری رائے میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ ہر ایک فریق کی دلیل کو اپنے بیان سے توڑنا یا بحال رکھنا ہوگا۔دوسرے یہ مناسب ہے کہ اس مضمون کو رسالہ میں متفرق طور پر درج نہ کیا جائے کہ اس میں منصف کو دوسرے نمبروں کا مدت دراز تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔بلکہ مناسب ہے کہ یہ سارا مضمون ایک ہی دفعہ ’’برادر ہند‘‘ میں درج ہو یعنی تین تحریریں ہماری طرف سے اور تین ہی آپ کی طرف سے ہوں اور اُن پر دونوں منصفوں کی مفصل رائے درج ہو اور اگر آپ کی نظر میں اب کی دفعہ منصفوں کی رائے درج کرنا کچھ دقت ہو تو پھر اس صورت میں یہ بہتر ہے کہ جب میں بفضلہ تعالیٰ امرتسر سے واپس آ کر تحریر ثالث آپ کے پاس بھیج دوں تو آپ بھی اُس پر کچھ مختصر تحریر کر کے تینوں تحریریں یکدفعہ چھاپ دیں اور ان تحریروںکے اخیر میں یہ بھی لکھا جائے کہ فلاں فلاں منصف صاحب اس پر