مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 31

کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔پس جس الہام کے آپ قائل ہیں اُس کی بھی وہی کیفیت ہے۔آپ کے نزدیک ایک عرصہ دراز کی عادت کے باعث وہ خیال ایسا پختہ اور صحیح ہو گیا ہے کہ آپ اس کے مخالف ہماری مضبوط سے مضبوط دلیل بھی قابل اطمینان نہیں پاتے ہیں۔اور جب ایک طرف سے اپنی دلیل کو کمزور دیکھتے ہیں تو دوسری طر ف بدل کر چل دیتے ہیں۔اس طور پر فیصلہ ہونا محال ہے۔آج تک کسی سے ہوا بھی نہیںاور نہ آئندہ ہونے کی اُمید ہے۔آپ مجھ سے اُن مصنفوں کے نام طلب کرتے ہیں جن کی تصنیف یا تحقیقات میں غلطی نہیں ہے۔حالانکہ جن علوم کا میں نے ذکر کیاتھا اُس کے جاننے والوں کے نزدیک اِن کی تصنیف کی کیفیت پوشیدہ نہیں ہے۔کیا آپ نے علم ریاضی کی تصنیفات خود ملاحظہ نہیں کی ہیں؟ کیا علم طبیعات کی کتب آپ کی نظر سے نہیں گزری ہیں؟ بیشک جدید تصنیفات جو انگریزی سے فارسی یا عربی میں ترجمہ نہیں ہوئیں شاید اُن کی کیفیت آپ سے پوشیدہ ہو مگر بعض یونانیوں کی تصنیف مثل اقلیدس کے علم ہندسہ وغیرہ سے غالباً آپ واقفیت رکھتے ہونگے اور ظاہر ہے کہ علم ہندسہ کے راست اور صحیح ہونے میں آج تک دنیا میں کسی عالم کو خواہ (وہ الہام کا مقر ہو یا منکر خدا پرست ہو یا دہریہ) کلام نہیں ہے۔اگر آپ کی رائے میں وہ درست نہ ہو تو آپ براہ مہربانی مجھ کو اس کی غلطیوں سے مطلع فرمائیں۔پھر آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے آپ کے مضمون کے جواب دینے میں داب مناظرہ کو مرعی نہیں رکھا۔اس کے جواب میں میں صرف اس قدر عرض کرنا کافی سمجھتا ہوں کہ جس وقت میری اور آپ کی کل تحریریں رسالہ برادر ہند میں مشتہر کی جاویں گی۔اُس وقت انصاف پسند ناظرین خود ہی تصفیہ کر لیں گے۔آپ کا یہ فرمانا صحیح ہے یا غیر صحیح۔اگر آپ لکھیں تو اگلے مہینہ کے رسالہ سے اس بحث کو مشتہر کرنا شروع کر دوں۔آپ کا نیاز مند لاہور ۱۲؍ جون ۱۸۷۹ء شیونارائن۔اگنی ہو تری