مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 489

مکتوب نمبر ۲۸ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاخط مجھ کو ملا سوالات کے جواب حسب ذیل ہیں۔(نمبر۱) جو شخص سچی ارادت سے مریدوں میں داخل ہوگا اور سچا مسلمان بن جائے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اُس سے بہتری کرے گا۔(نمبر۲)اگر کوئی معجزہ دیکھنے پر بیعت کے لئے تیار ہے تو اس وقت تک دس ہزار کے قریب اللہ تعالیٰ معجزات دکھا چکا ہے جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں اور اپنی مرضی سے ہمیشہ دکھاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ گزشتہ معجزات میرے لئے کافی نہیں اور میں اپنے اقتراح سے معجزہ چاہتا ہوں تو ایسا آدمی شریر اور بد نصیب ہے۔خدا تعالیٰ کو نہ اس کی پرواہ ہے نہ اس کی بیعت کی۔(نمبر ۳)کرشن ہونے کا دعویٰ خدا تعالیٰ کی وحی سے ہے ہرایک ملک میں نبی ہوتے رہے ہیں پس یہ شرارت ہے کہ بغیر علم یقینی کے کرشن کو بُرا کہا جاوے۔ ۱؎ (نمبر۴) میںنے ثناء اللہ کو ہرگز نہیں کہا کہ میرے مکان پر نہ آئو۔لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ۔بلکہ خود اُن آریہ سماج والوں کے مکان پر اترا جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدہا گالیاں نکالتے تھے۔جن کے گندے رسالے اب تک موجود ہیں۔ایک غیرت مند مومن کا کام نہیں کہ ایسے پلید گروہ دشمن اسلام کے گھر میں اُترے۔نہ میرے پاس وہ آیا نہ آنے کی خواہش ظاہر کی۔میں نے اس کو کب کہا تھا کہ تم چوروں کی طرح میرے پاس آئو۔وہ ہرگز میرے پاس نہیں آیا۔ہاں قادیان میں آریہ سماج والوں کے پا س آیا اور اس کی اس حرکت سے قادیان کے مسلمان بھی حیران تھے کہ مولوی کہلا کر دشمنانِ اسلام کے پاس اُترا جن کا طریق توہینِ اسلام ہے۔کوئی غیرت مند مسلمان ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ ایسے مکان پر کسی کے ۱؎ فاطر: ۲۵